براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 131 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 131

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق (بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام وو 131 چاہی ہے اور طرز معاشرت اور شائستگی عادات و طرز تحریر اور طریق تعلیم میں یورپ کا تنتبع اختیار کیا ہے چنانچہ " اس کے بعد چند شام، قاہرہ، بیروت اور تیونس کی مطبوعات کا ذکر کر کے لکھتے ہیں: “ اور مولوی کرامت علی صاحب جونپوری متولی امام باڑہ محسنیہ ہو گی صاحب ماخذ العلوم معہ ضمیمہ عمدہ مصنفین ہیں اور مولوی مہدی علی صاحب کی فرزانہ اور دردمندانہ تقریریں مسلمانوں کی درد انگیز حالت پر نہایت مرتبہ پُر تاثیر ہوتی ہیں خصوصاً جناب مولوی سید احمد خان بہادر کی کوششیں جو مختلف طور سے بانحاوشتی مسلمانوں کی خراب حالت اور نکبت و فلاکت اصلاح و درستی اور علوم جدیدہ کی اشاعت اور حمایت اسلام میں بروئے کار آرہی ہیں اُنہوں نے اکثر مخالف اور موالف کے پژمردہ بلکہ مردہ دلوں میں تحریک پیدا کر دی اور ہندیوں کے تنگ و تاریک خیالات کو حقیقی نور کی آبیاری سے ترو تازہ کرنے کا سامان کیا اور بالتخصیص مدرستہ المسلمین کی بنیاد ہمارے دین کی آرایش اور آسائیش کا سر چشمہ ہے۔" گو یا کرامت علی جونپوری (1800-1873) مولوی چراغ علی کے پسندیدہ مصنفین میں سے ہیں جنہیں ہندوستان میں جدیدیت کے بانی کہا جاتا ہے۔ان کے ساتھ سر سید احمد خان (1817-1898) بھی شامل ہیں اور ان ہی میں مولوی چراغ علی بھی شامل ہیں جو سر سید احمد خان کے پیر و خاص تھے۔یہاں پر اس جدیدیت کی بحث میں اُلجھے بغیر اور اُن کی مساعی و نتائج کی بحث میں بھی پڑے بغیر اپنے موضوع کی مناسبت سے مولوی چراغ علی صاحب کی ایک حسرت کا ذکر کرتے ہیں جو حضرت مرزا صاحب کی حقانیت فرقان مجید کے ثبوت میں پیش کی جاتی ہے۔مولوی چراغ علی کی حسرت یہ ہے کہ : جر من اور فریج یا اطالیہ اور انگلینڈ میں مسلمانوں کی طرف سے واعظ اور وفود ( مشنری) اور معلم کبھی نہیں بھیجے گئے کہ انہوں نے ان ملکوں میں برسوں قرآن کا وعظ کیا ہو۔اور اس کے محاسن اخلاق اور معرفت اور حقیقت کی باتوں کو مشہور کیا ہو۔بلکہ قرآن نے خود ہی اپنی الہی تاثیر سے اُن ملکوں میں جہاں سب اس کے منکر یا اس سے ناواقف تھے اپنی تجلی کی۔اور اپنے مضامین حقیقت آگیں اور زبان معجز بیان سے وہاں کے اہل دل اور قلب سلیم والوں میں ایک تحریک پیدا کی اور ان لوگوں نے اس سے اقتباس کر کے اپنے خیالات کو بھی منور کیا اور نیز علم معانی و بیان کی نظر سے اس کو اپنا متقنڈ اٹھہرایا۔"39 قرآن شریف کی حقیت جو مولوی چراغ علی صاحب کے نزدیک ہے موصوف کیا اُس کی یورپ میں اشاعت چاہتے تھے ؟ تو بجائے فائدے کے اُلٹا اسلام کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتے البتہ مستشرقین کی ہاں میں ہاں ملا کر اعجاز قرآن کے اثر میں روک بنتے۔اس کے بر عکس حضرت مرزا صاحب کی مساعی جمیلہ کے شیریں ثمرات کے نتیجہ میں حقانیت قرآن اس طرح ظاہر ہورہی ہے کہ آپ کے قائم کردہ نظام کے تحت دنیا میں ۱۰۰ از بانوں میں قرآن پاک کا ترجمہ ہو چکا ہے اور ۲۰۰ ممالک میں (جن میں مولوی چراغ علی صاحب کے نشان زدہ ممالک شامل ہیں ) حضرت مرزا صاحب کے قائم کردہ نظام کے مشنری موجود ہیں۔اس صورت حال میں مولوی عبد الحق کے الزام کی قلعی اور کھل جاتی ہے۔6-9 - فرقان مجید کے الہامی / کلام الہی ہونے کا ثبوت محضرت علی ایم کے اپنی نبوت پر مستحکم یقین اور آپ کی کامیابی کو آپ کی سچائی ثابت کرنے کے عنوان سے مولوی چراغ علی صاحب نے ایک کتاب مارچ 1884ء میں لکھی جو 1885ء میں تھیکر اسپنک اینڈ کمپنی کے پریس میں چھپی جس کا نام ہے: A CRITICAL EXPOSITION OF THE POPULAR “JIHAD”