براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 126
126 براہین احمدیہ مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام allow able by any law of sound interpretations are drawn۔(The Proposed political, legal, and social reforms in the Ottoman Empire and other Mohammadan states۔) $33 مولوی عبد الحق صاحب نے ان عبارتوں کا جو ترجمہ اعظم الکلام فی ارتقاء الاسلام ” میں کیا ہے وہ درج ذیل ہے: قرآن سے استخراج نتائج 22 : “ اسلامی شریعت کے نہایت ضروری سول اور پولیٹکل مسائل جو قرآن پر مبنی ہیں، وہ محض ایک لفظ واحد یا ایک ہی جملہ سے مستخرج و مستنتج ہیں۔بیجا لفظی تقلید کی پابندی، اور قرآن کے صحیح مطالب کی طرف سے بے توجہی، تفاسیر قرآن اور ہمارے فقہا کے استدلال کا ایک خاصہ ہو گیا ہے۔بیان کیا جاتا ہے کہ چھ ہزار آیات قرآنی میں سے صرف دو سو آیتیں دیوانی، فوجداری، مال، سیاست، عبادت اور رسوم مذ ہبی کے متعلق ہیں۔ان معدودے چند احکام سے بھی قانون کے ماخذ اولین (قرآن) کا تیسواں حصہ ایسا ہے جس کا قطعی النص ہو نایقین نہیں ہے۔یہ کوئی باقاعدہ اور مکمل قواعد نہیں ہیں۔میرے خیال میں ان میں سے تین چوتھائی سے زیادہ صرف حروف واحد، الفاظ اور ادھورے فقرے ہیں ، جن سے خلاف قیاس خیالی نتائج پیدا کئے گئے ہیں، اور جس کی کوئی صحیح تعبیر قانونی جائز نہیں رکھ (کذ ا ر کھی جا سکتی۔پھر اس کے بعد پیر انمبر 23 میں لکھتے ہیں:۔23۔احکام اخلاق تاریخی امور و قصص اور پیش گوئیوں کے علاوہ قرآن کے قانونی اور عدالتی اصول کی تشریح کے لئے الفاظ اور جملے - Some of the Mohammadan doctors have exerted themselves, in picking out the law, as they are called and in compiling separate treatises in which they have made an abstract of all such verses of the Koran۔They have applied them to the different heads of the۔۔۔۔of the various branches of the Canon and civil law giving their fanciful process of reasoning and the deductives system of jurisprudence۔اسلامی الہام کچھ زیادہ قدیم نہیں ہے ، جو شخص پہلی بار قرآن کو پڑھے گاوہ مشکل سے یہ خیال کر سکتا ہے کہ اس کا یہ منشاء جو مسلمان اقوام نے دے رکھا ہے ، یعنی انہوں نے اپنے تمدن اور سیاسی معاملات کی بنیاد اس پر قائم کی ہے۔لیکن سب سے زیادہ اہم وہ نتائج ہیں جو اس کے معانی سے پیدا کئے گئے ہیں۔حال ان کہ کوئی قطعی قاعدہ اس میں ایسا نہیں پایا جاتا کہ جس کا صحیح اطلاق کیا جاسکے جہاں کہیں قطعی قواعد پائے جاتے ہیں (اور وہ چھوٹے چھوٹے معاملات کی نسبت صرف چند ہی ہیں تو ان کی پابندی بڑی سختی کے ساتھ کی جاتی ہے۔الی منٹس آف لا مصنفہ ولیم مارکسی ایم۔اے۔سیکنڈ ایڈیشن صفحہ 37)۔بعض مسلمان فقہاء نے قانونی آیات کی تلاش کرنے میں بہت کوشش کی ہے۔اور الگ کتابیں لکھی ہیں۔جن میں ان آیات قرآنی کا خلاصہ درج کیا ہے۔اور ان کو ملکی قانون کے مختلف اقسام پر عائد کیا ہے۔اور فقہ کے طرز استنباطی اور خیالی طریقہ استدلال کو خوب کام میں لائے ہیں۔“ (صفحہ 15-16 دیا چی)