براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 127
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 127 اور اُون کے طرق استعمال مفصلہ ذیل چار حصوں میں تقسیم کئے گئے ہیں (1) الفاظ ( خاص، عام ، مشتر کہ ماؤل) (2) جملے ظاہر (ظاہر، نص، مفسر، محکم) خفی (مخفی، مشکل، مجمل، منشابه ) (3) لفظوں اور جملوں کا استعمال (حقیقت، مجاز، صریح، کنایة (4) طرق استدلال و عبارت، اشارات ، دلالت، اقتضا) اس سے ظاہر ہو گا کہ یہ دو سو آیات قرآنی سول لا کے متعلق کوئی خاص تعلیم یا محکم قواعد نہیں ہیں۔ان میں سے بہت سے نتائج اٹکل پکو معلوم ہوتے ہیں۔" 34 ذرا ملاحظہ فرمائیں یہ ہے قرآن شریف کی حقیت مولوی چراغ علی صاحب کے نزدیک یعنی: قرآن شریف کی چھ ہزار آیات قرآنی میں سے صرف دو سو آیتیں دیوانی، فوجداری، مال، سیاست، عبادت، رسوم مذہبی سے متعلق ہیں۔جن کا: :: :: قطعی النص ہونا یقینی نہیں یہ کوئی با قاعدہ اور مکمل قواعد نہیں کیو نکہ مولوی چراغ علی صاحب کے خیال میں ): تین چوتھائی سے زیادہ صرف حروف واحد الفاظ اور ادھورے فقرے ہیں۔خلاف قیاس خیالی نتائج پید اکیسے گئے ہیں جس کی کوئی صحیح تعبیر قانونی جائز نہیں رکھی جاسکتی یہ دوسو آیات قرآنی سول لاء کے متعلق کوئی خاص تعلیم یا محکم قواعد نہیں ہیں۔ان میں سے بہت سے نتائج اٹکل پچو معلوم ہوتے ہیں۔یہ سب امور مولوی چراغ علی صاحب نے ایک مستشرق ولیم مار کمی سے اخذ کیے ہیں جس کا انہوں نے حوالہ متن میں دے کر حاشیہ میں اصل عبارت کو بطور سند درج کیا ہے اور اپنی بات میں مزید وزن پیدا کرنے کی خاطر بلکہ اعتبار جمانے کی خاطر یہ لکھ دیا ہے کہ بعض مسلمان فقہا نے قانونی آیات تلاش کرنے کی بہت کوشش کی ہے اور فقہ کے طرز استنباطی اور خیالی طریقہ استدلال کو خوب کام میں لائے ہیں۔" لیکن نہ تو مولوی چراغ علی صاحب نے “ مسلمان فقہا کا نام لیا ہے اور نہ ہی مستشرق ولیم مارکسی نے کسی مثال کا حوالہ دیا ہے لیکن مولوی چراغ علی صاحب “مولوی کہلا کر مستشرقین کے حوالے ڈھونڈ ڈھونڈ کر لاتے ہیں گویا ایسے لگتا ہے کہ جس بد نیتی سے مستشرقین نے قرآن شریف کو دیکھا ہے اُس قاعدہ کلیہ پر مولوی چراغ علی صاحب قرآن شریف کو فٹ کرنا چاہتے ہیں بلکہ اُن کے پیش نظر اول مستشرقین ہیں اور بعدہ قرآن شریف ہے۔بھلا اس موقعہ پر اس مجہول الکنہ پادری ولیم مار کبھی کے حوالے کا کوئی ٹک بھی بنتا ہے ؟ صرف اُنہیں یہ بات نظر آتی ہے کہ پادری مار کبھی نے ایسا لکھا ہے تو اس نے قرآن شریف پر بڑا عبور حاصل کر لیا ہو گا تو لکھا ہو گا کیوں نہ اُسے اپنے مطلب کے لیے استعمال کیا جائے اور ایک اچھی معذرت " بغیر معذرت کے الفاظ سے جس کے پیچھے ایک پادری کے بد