براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 99
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق (بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام باخلاق اللہ خدا تعالیٰ کی صفات جمیلہ سے کچھ مناسبت پیدا ہو گئی ہے۔99۔۔۔اور اس درجہ لقا میں بعض اوقات انسان سے ایسے امور صادر ہوتے ہیں کہ جو بشریت کی طاقتوں سے بڑھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور الہی طاقت کا رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں جیسے ہمارے سید و مولیٰ سید الرسل حضرت خاتم الانبیاء صلی علیم نے جنگ بدر میں ایک سنگریزوں کی مٹھی کفار پر چلائی مگر اس مٹھی نے خدائی طاقت دکھلائی اور مخالف کی فوج پر ایسا خارق عادت اس کا اثر ہوا کہ کوئی ان میں سے ایسا نہ رہا کہ جس کی آنکھ پر اس کا اثر نہ پہنچا ہو اور وہ سب اندھوں کی طرح ہو گئے اور ایسی سراسیمگی اور پریشانی ان میں پیدا ہو گئی کہ مدہوشوں کی طرح بھاگنا شروع کیا۔اسی معجزہ کی طرف اللہ جلشانہ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے۔وَ مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ الله رمي ( الانفال: 18) یعنی جب تو نے اس مٹھی کو پھینکا وہ تونے نہیں پھینکا بلکہ خد اتعالیٰ نے پھینکا۔یعنی در پر دہ الہی طاقت کام کر گئی۔انسانی طاقت کا یہ کام نہ تھا۔اور ایسا ہی دوسرا معجزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو شق القمر ہے اسی الہی طاقت سے ظہور میں آیا تھا کہ کوئی دعا اس کے ساتھ شامل نہ تھی کیونکہ وہ صرف انگلی کے اشارہ سے جو الہی طاقت سے بھری ہوئی تھی وقوع میں آگیا تھا۔اور اس قسم کے اور بھی بہت سے معجزات ہیں جو صرف ذاتی اقتدار کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھلائے جن کے ساتھ کوئی دعانہ تھی۔کئی دفعہ تھوڑے سے پانی کو جو صرف ایک پیالہ میں تھا اپنی انگلیوں کو اس پانی کے اندر داخل کرنے سے اس قدر زیادہ کر دیا کہ تمام لشکر اور اونٹوں اور گھوڑوں نے وہ پانی پیا اور پھر بھی وہ پانی ویسا ہی اپنی مقدار پر موجود تھا اور کئی دفعہ دو ۲ چار روٹیوں پر ہاتھ رکھنے سے ہزار ہا بھوکوں پیاسوں کا ان سے شکم سیر کردیا اور بعض اوقات تھوڑے دودھ کو اپنے لبوں سے برکت دے کر ایک جماعت کا پیٹ اس سے بھر دیا اور بعض اوقات شور آب کنوئیں میں اپنے منہ کا لعاب ڈال کر اس کو نہایت شیریں کر دیا۔اور بعض اوقات سخت مجروحوں پر اپنا ہاتھ رکھ کر ان کو اچھا کر دیا۔اور بعض اوقات آنکھوں کو جن کے ڈیلے لڑائی کے کسی صدمہ سے باہر جا پڑے تھے اپنے ہاتھ کی برکت سے پھر درست کر دیا۔ایسا ہی اور بھی بہت سے کام اپنے ذاتی اقتدار سے کئے جن کے ساتھ ایک چھپی ہوئی طاقت الہی مخلوط تھی۔54 5-7- حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی اور پادری عماد الدین یہ حصہ مضمون جو بہت طول کھینچ گیا ہے۔لیکن یہاں یہ ذکر کر دینا بے جانہ ہو گا کہ پادری ای ایم وہیری نے اپنی مذکورہ بالا کتاب کے صفحہ 57 پر پادری عماد الدین صاحب کی ایک کتاب تو زین الا قوال " The Tauzin ul Aqwal جو نہایت دل آزار اور اشتعال انگیز ہے کا تعارف کروایا ہے۔جو براہین احمدیہ حصہ چہارم (1884ء) کی تصنیف کے نو (9) سال بعد 1893ء میں لکھی گئی تھی۔یہ کتاب حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے خلاف ہے۔موصوف نے براہین احمدیہ کا اس کتاب کے پہلے باب میں ذکر تو کیا ہے اور حسب سابق اپنی بد باطنی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اسے یہ کہہ کر جواب کے قابل قرار نہیں دیا کہ 'incapable of a reply۔۔۔(ملاحظہ ہو مذکورہ بالا کتاب پادری و ہیری صفحہ 58)۔کیا ہی اچھا ہوتا اگر اس کتاب میں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے براہین احمدیہ میں مذکورہ چیلنج کا جواب بھی دے دیتا جو پادری عماد الدین صاحب ہی سے متعلق تھا۔پادری عماد الدین جس نے اپنی کتاب “ ہدایت المسلمین میں قرآن کریم میں بسم اللہ کی بلاغت پر اعتراض کیا اور حضرت اقدس نے