براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 100
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق (بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام اس کا براہین احمدیہ میں بھی جواب دیا اور ساتھ اس کی عربی دانی کی بابت لکھا:۔100 “بھلا عماد الدین پادری کسی عربی آدمی کے مقابلہ پر کسی دینی یا دنیوی معاملہ میں ذرا ایک آدھ گھنٹہ تک ہم کو بول کر تو دکھاوے تا اول یہی لوگوں پر کھلے کہ اس کو سیدھی سادھی اور بامحاورہ اہل عرب کے مذاق پر بات چیت کرنی آتی ہے یا نہیں۔کیونکہ ہم کو یقین ہے کہ اس کو ہر گز نہیں آتی اور ہم یہ یقین تمام جانتے ہیں کہ اگر ہم کسی عربی آدمی کو اس کے سامنے بولنے کے لئے پیش کریں تو وہ عربوں کی طرح اور ان کے مذاق پر ایک چھوٹا سا قصہ بھی بیان نہ کر سکے اور جہالت کے کیچڑ میں پھنسا رہ جائے اور اگر شک ہے تو اس کو قسم ہے کہ آزما کر دیکھ لے۔اور ہم خود اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ اگر پادری عماد الدین صاحب ہم سے درخواست کریں تو ہم کوئی عربی آدمی بہم پہنچا کر کسی مقررہ تاریخ پر ایک جلسہ کریں گے جس میں چند لائق ہندو ہوں گے اور چند مولوی مسلمان بھی ہوں گے اور عماد الدین صاحب پر لازم ہو گا کہ وہ بھی چند عیسائی بھائی اپنے ساتھ لے آویں اور پھر سب حاضرین کے روبرو اول عماد الدین صاحب ب کوئی قصہ جو اسی وقت ان کو بتلایا جائے گا عربی زبان میں بیان کریں۔اور پھر وہی قصہ وہ عربی صاحب کہ جو مقابل پر حاضر ہوں گے اپنی زبان میں بیان فرماویں۔پھر اگر منصفوں نے یہ رائے دے دی کہ عماد الدین صاحب نے ٹھیک ٹھیک عربوں کے مذاق پر عمدہ اور لطیف تقریر کی ہے تو ہم تسلیم کرلیں گے کہ ان کا اہل زبان پر نکتہ چینی کرنا کچھ جائے تعجب نہیں بلکہ اسی وقت پچاس روپیه نقد بطور انعام ان کو دیئے جائیں گے لیکن اگر اس وقت عماد الدین صاحب بجائے فصیح اور بلیغ تقریر کے اپنے ژولیدہ اور غلط بیان کی بدبو پھیلانے لگے یا اپنی رسوائی اور نالیاقتی سے ڈر کر کسی اخبار کے ذریعہ سے یہ اطلاع بھی نہ دی کہ میں ایسے مقابلہ کے لئے حاضر ہوں تو پھر ہم بجز اس کے کہ لعنت اللہ علی الکاذین کہیں اور کیا کہہ سکتے ہیں۔اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اگر عماد الدین صاحب تولد ثانی بھی پاویں تب بھی وہ کسی اہل زبان کا مقابلہ نہیں کر سکتے پھر جس حالت میں وہ عربوں کے سامنے بھی بول نہیں سکتے اور فی الفور گونگا بننے کے لئے طیار ہیں۔تو پھر ان عیسائیوں اور آریوں کی ایسی سمجھ پر ہزار حیف اور دو ہزار لعنت ہے کہ جو ایسے نادان کی تالیف پر اعتماد کر کے اس بے مثل کتاب کی بلاغت پر اعتراض کرتے ہیں کہ جس نے سید العرب پر نازل ہوکر عرب کے تمام فصیحوں اور بلیغیوں سے اپنی عظمت شان کا اقرار کرایا۔۔۔” 5-8- حضرت مرزا صاحب کے چیلنج مذکورہ نور الحق ”عربی دانی: ثبوت فصاحت و بلاغت قرآن کریم کے مقابلہ پر تمام پادری بشمول پادری عماد الدین سامنے نہ آئے 55 " امر تسر میں اہل اسلام اور عیسائیوں کے مابین 22 مئی 1893 ء سے لے کر 5 جون 1893 ء تک ایک مباحثہ ہوا۔جس میں اہل اسلام کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ( مرزا غلام احمد صاحب قادیانی) اور عیسائیوں کی طرف سے ڈپٹی عبد اللہ آتھم مناظر تھے۔جب حضرت مرزا صاحب کے ممبر ان سفارت پادری عماد الدین کے پاس یہ دریافت کرنے کے لیے پہنچے کہ کیا آپ اس مناظرہ میں بطور مناظر پیش ہوں گے تو انہوں نے کہا میں تو ایسے مناظروں کو فضول سمجھتا ہوں۔” بہر کیف مذکورہ مناظرہ ہوا اور عیسائی فریق کو شکست فاش ہوئی اس سے نہ صرف ہندوستانی پادری بو کھلا اٹھے بلکہ یورپین مشنری