براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 87 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 87

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 87 ایسی ہی چمکتی ہیں کہ جیسی قدیم سے چمکتی آئی ہیں۔کچھ تھوڑے دنوں کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ اس ہندو صاحب کا ایک عزیز کسی ناگہانی پہنچ میں آکر قید ہو گیا اور اس کے ہمراہ ایک اور ہندو بھی قید ہوا۔اور ان دونوں کا چیف کورٹ میں اپیل گزرا۔اس حیرانی اور سرگردانی کی حالت میں ایک دن اس آریہ صاحب نے مجھے سے یہ بات کہی کہ غیبی خبر اسے کہتے ہیں کہ آج کوئی یہ بتلا سکے کہ اس ہمارے مقدمہ کا انجام کیا ہے۔۔۔۔وہ شخص اس بات پر اصراری ہو گیا کہ اگر اسلام کے متبعین کو دوسری قوموں پر ترجیح ہے تو اسی موقع پر اس ترجیح کو دکھلانا چاہیئے۔اس کے جواب میں ہر چند کہا گیا کہ اس میں خدا کا اختیار ہے انسان کا اس پر حکم نہیں مگر اس آریہ نے اپنے انکار پر بہت اصرار کیا۔غرض جب میں نے دیکھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں اور دین اسلام کی عظمتوں سے سخت منکر ہے۔تب میرے دل میں خدا کی طرف سے بھی جوش ڈالا گیا کہ خدا اس کو اسی مقدمہ میں شرمندہ اور لاجواب کرے۔اور میں نے دعا کی۔۔۔۔تب خدا نے جو اپنے سچے دین اسلام کا حامی ہے اور اپنے رسول کی عزت اور عظمت چاہتا ہے۔رات کے وقت رؤیا میں کل حقیقت کھول دی اور ظاہر کیا کہ تقدیر الہی میں یوں مقدر ہے کہ اس کی مثل چیف کورٹ سے عدالت ماتحت میں پھر واپس آئے گی اور پھر اس عدالت میں نصف قید اس کی تخفیف ہو جائے گی مگر بری نہیں ہو گا۔اور جو دو سر ارفیق ہے وہ پوری قید بھگت کر خلاصی پائے گا اور بری وہ بھی نہیں ہو گا۔۔۔۔اسی وقت میں نے یہ رویا ایک جماعت کثیر کو سنا دیا اور اس ہند و صاحب کو بھی اسی دن خبر کر دی۔” 29 اب ایک اور پیش گوئی یہاں درج کی جاتی ہے جو خاص حیدر آباد دکن سے تعلق رکھتی ہے جہاں پر مولوی چراغ علی بھی مقیم تھے اور یہ ان کے ایک رفیق جو ریاست حیدر آباد دکن میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے سے متعلق ہے اس بات کی یقینا مشہوری براہین احمدیہ (سنہ اشاعت 1880ء تا 1884ء) کے چھپنے پر حیدر آباد دکن میں بھی ہوئی ہو گی تو مولوی چراغ علی کے لئے اس کی تردید کرنا بڑی آسان بات تھی۔لیکن کہیں سے بھی اس کے بر خلاف آواز نہ اٹھی لیکن مولوی چراغ علی اپنی غلط روش پر قائم رہے اور تحقیق الجہاد (سنہ اشاعت 1885ء) میں انبیاء کی پیش گوئیوں سے منکر رہے۔بہر کیف حیدر آباد دکن سے متعلق وہ پیش گوئی ملاحظہ ہو۔لیکن اس سے قبل اس کی ذراسی تمہید حضرت اقدس کے ہی قلم مبارک سے جو اس سے ہی متعلق ہے ملاحظہ ہو:۔“ایک پنڈت کا بیٹا شام لال نامی جو ناگری اور فارسی دونوں میں لکھ سکتا تھا بطور روزنامہ نویس کے نوکر رکھا ہوا تھا اور بعض امور غیبیہ جو ظاہر ہوتے تھے اس کے ہاتھ سے وہ ناگری اور فارسی خط میں قبل از وقوع لکھائے جاتے تھے اور پھر شام لال مذکور کے اس پر دستخط کرائے جاتے تھے۔۔۔“خواب میں دیکھا تھا کہ حیدر آباد سے نواب اقبال الدولہ صاحب کی طرف سے خط آیا ہے اور اس میں کسی قدر روپیہ دینے کا وعدہ لکھا ہے یہ خواب بھی بدستور روز نامہ مذکورہ بالا میں اسی ہندو کے ہاتھ سے لکھائی گئی اور کئی آریوں کو اطلاع دی گئی۔پھر تھوڑے دنوں کے بعد حیدر آباد دکن سے خط آگیا اور نواب صاحب موصوف نے سو روپیہ بھیجا۔فالحمد للہ علی ذالک۔30 مولوی چراغ علی اپنی انگریزی تصنیف A Critical Exposition of Popular Jihad ( تحقیق الجہاد) جو 1884ء میں لکھی گئی اور 1885ء میں چھپی۔اس میں پیش گوئی کرنا پیغمبر کا کام نہیں بتاتے اور اسی 1884ء میں براہین احمد یہ چھپ کر شائع ہو جاتی ہے۔کیا بقول مولوی عبد الحق، مولوی چراغ علی، حضرت مرزا صاحب کو براہین احمدیہ میں پیغمبروں کا کام پیش گوئیاں کرنا بتا رہے ہیں ؟!!! اور اپنی انگریزی تالیف میں پیغمبروں کے پیشگوئیوں کے کرنے سے انکار کر رہے اور وہ بھی انگریزی زبان میں جبکہ حضرت مرزا