براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 88
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 88 صاحب انگریزی خواندہ نہیں تھے اور مولوی چراغ علی سے سینکڑوں کوس دور ایک دور دراز دیہات قادیان میں مقیم تھے جہاں سے ریل کا رابطہ بھی نہ تھا اور قادیان سے پہلے بٹالہ پیدل جا کر پھر بٹالہ سے یکہ پر امر تسر جانا پڑتا تھا۔مولوی عبد الحق صاحب نے حضرت مرزا صاحب کے خطوط سے ایک نہایت غلط نتیجہ اور من مانا نتیجہ اخذ کیا ہے۔میں مجبور ہوں کہ یہ چه نسبت ناک رابه عالم پاک لکھوں۔نوٹ: پیشگوئی اول میں جس ہندو کا ذکر کیا گیا ہے۔اس سے مراد لالہ شہر مپت رائے ہے۔۔۔۔اور جس کے متعلق پیشگوئی تھی وہ ان کے بھائی لالہ بشمبر داس تھے۔۔۔مصنف حیات احمد ، نواب سر وقار الامراء اقبال الدولہ حیدر آباد کے تذکرہ میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نواب صاحب ممدوح کی اس اعانت کو قبول فرمایا اور ان کے وجود کو ایک آیت اللہ کارنگ دے دیا۔علاوہ بریں دنیا میں ان کے خاندان کی خدمت کا موقع بعض اشد ضرورتوں کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک ادنی خادم (عرفانی) کو موقعہ ملاجو ہمیشہ یہی یقین کرتا ہے کہ یہ موقعہ نواب صاحب کی اسی اعانت کی قبولیت کے ثمرہ میں ملا ہے۔"31 پیشگوئیوں ہی کے ضمن میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی اپنی شہرہ آفاق کتاب براہین احمدیہ میں مکالمات اور مخاطبات بہیمین متابعت و محبت حضرت خاتم الانبیاء صلی الم کا ذکر فرماتے ہوئے درج کرتے ہیں : اب وہ واعظان انجیل اور پادریان گم کردہ سبیل کہاں اور کدھر ہیں کہ جو پرلے درجہ کی ہٹ دھرمی کو اختیار کر کے محض کینہ اور عناد اور شیطانی سیرت کی راہ سے عوام کالا نعام کو یہ کہہ کر بہکاتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی پیشگوئی ظہور میں نہیں آئی سواب منصفان حق پسند خود سوچ سکتے ہیں کہ جس حالت میں حضرت خاتم الانبیاء کے ادنیٰ خادموں اور کمترین چاکروں سے ہزار ہا پیشگوئیاں ظہور میں آتی ہیں اور خوارق عجیبہ ظاہر ہوتے ہیں تو پھر کس قدر بے حیائی اور بے شرمی ہے کہ کوئی کور باطن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں سے انکار کرے اور پادریوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے بارہ میں اس وجہ سے فکر پڑی کہ توریت کتاب استثناء باب ہثر دهم آیت بست و دوم ۲۲ میں بچے نبی کی یہ نشانی لکھی ہے کہ اس کی پیشگوئی پوری ہو جائے۔سو جب پادریوں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہزار ہا خبریں قبل از وقوع بطور پیشگوئی فرمائی ہیں اور اکثر پیشگوئیوں سے قرآن شریف بھی بھر اہوا ہے اور وہ سب پیشگوئیاں اپنے وقتوں پر پوری بھی ہو گئیں تو ان کے دل کو یہ دھڑ کا شروع ہوا کہ ان پیشگوئیوں پر نظر ڈالنے سے نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بدیہی طور پر ثابت ہوتی ہے اور یا یہ کہنا پڑتا ہے کہ جو کچھ توریت یعنی کتاب استثنا ۱۸ باب ۲۱ و ۲۲ آیت میں سچے نبی کی نشانی لکھی ہے وہ نشانی صحیح نہیں ہے سو اس پیچ میں آکر نہایت ہٹ دھرمی سے ان کو یہ کہنا پڑا کہ وہ پیشگوئیاں اصل میں فراستیں ہیں کہ اتفاقا پوری ہو گئی ہیں لیکن چونکہ جس درخت کی بیخ مضبوط اور طاقتیں قائم ہیں وہ ہمیشہ پھل لاتا ہے۔اس جہت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیاں اور دیگر خوارق صرف اسی زمانہ تک محدود نہیں تھے بلکہ اب بھی ان کا برابر سلسلہ جاری ہے۔اگر کسی پادری وغیرہ کو شک و شبہ ہو تو اس پر لازم و فرض ہے کہ وہ صدق اور ارادت سے اس طرف توجہ کرے پھر