بیت بازی

by Other Authors

Page 77 of 871

بیت بازی — Page 77

77 ۵۵ ۵۶ ۵۷ ۵۹ บ ۶۲ زور و سب و قدرت ہے خدایا اک مطلب کو تجھے پایا ہر پایا تری نعمت کی کچھ قلت نہیں ہے تہی اس سے کوئی ساعت نہیں ہے تیرے کوچے میں کن راہوں سے آؤں وہ خدمت کیا ہے؛ جس سے تجھ کو پاؤں ۵۸ تو پھر کیونکر ملے وہ یار جانی کہاں غربال میں رہتا ہے پانی تمہیں کس نے یہ تعلیم خطا دی فسبحان الذى اخزى الاعادي تم مر گئے تمہاری وہ عظمت نہیں رہی مرگئے؛ صورت بگڑ گئی ہے؛ وہ صورت نہیں رہی تقویٰ کے جامے جتنے تھے؛ سب چاک ہو گئے جتنے خیال دل میں تھے؛ ناپاک ہو گئے تھوڑے نہیں نشاں؛ جو دکھائے گئے تمہیں کیا پاک راز تھے؛ جو بتائے گئے تمہیں تم میں سے جس کو دین و دیانت سے ہے پیار اب اس کا فرض ہے؛ کہ وہ دل کر کے استوار تھم جاتے ہیں کچھ آنسو؛ یہ دیکھ کر کہ ہر سُو اس غم سے صادقوں کا آہ و بکا یہی ہے تیری وفا ہے پوری؛ ہم میں ہے عیب دُوری طاعت بھی ہے ادھوری؛ ہم پر بلا یہی ہے تجھ میں وفا ہے پیارے! سچے ہیں عہد سارے ہم جا پڑے کنارے؛ جائے بکا یہی ہے تو پھر اس پر خدائی کا گماں کیا وگر قدرت بھی پھر وہ ناتواں کیا کرو کچھ فکر اب حضرت سلامت دلدار ملے جو خاک سے؛ اس کو ملے یار ۶۳ ۶۴ ۶۶ ۶۸ ۶۹ ۷۰ اے ۷۲ تناسخ تکبر اڑ گیا؟ آئی قیامت نہیں ملتا وہ تیرے مکروں سے اے جاہل ! مِرا نقصاں نہیں ہرگز کہ یہ جاں آگ میں پڑ کر ؛ سلامت آنے والی ہے تم تو ہو آرام میں؛ پر اپنا قصہ کیا کہیں پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے سخت گھبرانے کے دن تیرے ہاتھوں سے مرے پیارے اگر کچھ ہو تو ہو ور نہ دیں میت ہے؛ اور یہ دن ہیں دفنانے کے دن تم دیکھتے ہو کیسے دلوں پر ہیں ان کے زنگ دنیا ہی ہوگئی ہے غرض؛ دیں سے آئے تنگ ۷۴ تا اس کے دل پہ نور یقیں کا نزول ہو تا وہ جناب عز وجل میں قبول ہو تم دیکھتے ہو؛ قوم میں عفت نہیں رہی وہ صدق، وہ صفا؛ وہ طہارت نہیں رہی ۷۳ ۷۵ تب وہ خدائے پاک نشاں کو دکھاتا ہے غیروں پہ اپنا رعب؛ نشاں سے جماتا ہے ۷۶