بیت بازی — Page 76
76 ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ ۴۱ ۴۲ ۴۳ ۴۴ ۴۵ ہے ہے ہمسر تیرا ہوں میں ہمیشہ ؛ جب تک کہ دم میں دم ہے به روز کر مبارک سبحــــان مــــن یـــرانــی تو نے ہی میرے جانی! خوشیوں کے دن دکھائے یہ روز کر مبارک سبــــحـــــان مــــن یـــرانـــی تو سچے وعدوں والا؛ منکر کہاں کدھر ہیں یہ روز کر مبارک سبــــحـــــان مــــن یـــرانـــی نہیں ہمارا رہبر تیرا ہے یہ روز کر مبارک سبــــحـــــان مــــن یـــرانـــی تیرے سپرد تینوں؛ دیں کے قمر بنانا یہ روز کر مبارک سبــــــــــان مــــن یـــرانـــی جو پالتا ہے؟ ہر دم سنبھالتا ہے غم سے نکالتا ہے؛ دردوں کو ٹالتا ہے نے سکھایا فرقاں؛ جو ہے مدارِ ایماں جس سے ملے ہے عرفاں ؛ اور دُور ہووے شیطاں تیرا نبی جو آیا؟ اس نے خدا دکھایا دین قویم لایا؛ بدعات کو مٹایا تُو نے اس عاجزہ کو چار دیے ہیں لڑکے تیری بخشش ہے یہ اور فضل نمایاں تیرا تو نے ان چاروں کی پہلے سے بشارت دی تھی تو وہ حاکم ہے؛ کہ ٹلتا نہیں فرماں تیرا تیرے احسانوں کا کیوں کر ہو بیاں اے پیارے! مجھ پہ بے حد ہے کرم؛ اے مرے جاناں تیرا تخت پر شاہی کے ہے مجھ کو بٹھایا تو نے دین و دنیا میں ہوا مجھ پہ ہے احساں تیرا تیرے احساں ہیں اے رب البرایا مبارک کو بھی پھر تو نے چلایا وہ تیرے ہیں ؟ تو خود کر پرورش اے میرے اخوند ہماری عمر تا چند ۴۷ تیری قدرت کے آگے روک کیا ہے وہ سب دے ان کو؛ جو مجھ کو دیا ہے ۴۸ تجھے حمد و ثناء زیبا ہے پیارے کہ تو نے کام سب میرے سنوارے ۴۹ ۵۱ ۵۲ تیری رحمت ہے میرے گھر کا شہتیر میری جاں تیرے فضلوں کی پند گیر تری رحمت عجب ہے؛ اے مرے یار! تیرے فضلوں سے میرا میرا گھر ہے گلزار تجھے دنیا میں ہے کس نے پکارا کہ پھر خالی گیا قسمت کا مارا تو پھر ہے کسی قدر اس کو سہارا کہ جس کا تو ہی ہے سب سے پیارا ۵۳ تیری نصرت سے اب د ۵۴ دشمن تنبہ ہے ہر اک جا میں ہماری تو پینہ ہے ترے نوروں سے؛ دل سمس فضلوں سے جاں بستاں سرا ہے تیرے شمس الضحی ہے