بیت بازی — Page 78
78 ے تقویٰ یہی ہے یارو! کہ نخوت کو چھوڑ دو کبر و غرور و بخل کی عادت کو چھوڑ دو تلخی کی زندگی کو؛ کرد صدق سے قبول تا تم ۸۰ Al ۸۲ ۸۳ ۸۴ تھے 6 ملائکہ عرش کا نزول و تقوی کی جڑ؛ خدا کیلئے خاکساری ہے عفت جو شرط دیں ہے؛ وہ تقویٰ میں ساری ہے تم دیکھ کر بھی بد کو بچو بدگمان ڈرتے رہو عقاب خدائے جہان سے چاہتے کہ مجھ کو دکھا ئیں عدم کی راہ یا حارکموں پھانسی دلا کر کریں تباہ توریت میں بھی نیز کلام مجید میں لکھا گیا ہے رنگ وعید شدید میں تم میں نہ رحم ہے، نہ عدالت؛ نہ اتقا پس اس سبب سے ساتھ تمہارے نہیں خدا تم نے تو مجھ کو قتل کرانے کی ٹھانی تھی یہ بات اپنے دل میں بہت سہل جانی تھی تھے چاہتے؛ صلیب پر یہ شخص کھینچا جائے تا تم کو ایک فخر سے یہ بات ہاتھ آئے تم بد بنا کے؛ پھر بھی گرفتار ہو گئے بھی تو ہیں نشاں؛ جو نمودار ہوگئے تاہم وہ دوسرے بھی نشاں ہیں ہمارے پاس لکھتے ہیں اب خدا کی عنایت سے بے ہراس تیرے کاموں سے مجھے حیرت ہے اے میرے کریم کس عمل پر مجھ کو دی ہے خلعت قرب وجوار تیرے، اے میرے مربی! کیا عجائب کام ہیں گرچہ بھا گئیں جبر سے دیتا ہے قسمت کے ثمار تیرے ہاتھوں سے مرے پیارے ! اگر کچھ ہو، تو ہو ورنہ فتنہ کا قدم بڑھتا ہے ہردم سیل وار ۸۵ ΛΥ ۸۷ ۸۸ ۸۹ ۹۱ ۹۲ ۹۳ ۹۴ ۹۵ ۹۶ تم تو کہتے تھے؛ کہ یہ نابود ہو جائیگا جلد یہ ہمارے ہاتھ کے نیچے ہے اک ادنی شکار تھا کوشتوں میں یہی از ابتدا تا انتہا پھر مٹے کیونکر؛ کہ ہے تقدیر نے نقش جدار تیرے آگے محو یا اثبات ناممکن نہیں جوڑنا یا توڑ نا؛ یہ کام تیرے اختیار تو ہی بگڑی کو بناوے؛ توڑ دے جب بن چکا تیرے بھیدوں کو نہ پاوے؛ سو کرے کوئی بچار تلخ ہوتا ہے ثمر؛ جب تک کہ ہو وہ نا تمام اس طرح ایماں بھی ہے؛ جب تک نہ ہو کامل پیار تیرے منہ کی بھوک نے؛ دل کو کیا زیروز بر اے میرے فردوس اعلیٰ! اب گرا مجھ پر شمار درٌ عَدَن ۹۷ نہ مقصور جو کہ پہنچائے وہی رستہ بتا دیا تو نے