بیت بازی

by Other Authors

Page 837 of 871

بیت بازی — Page 837

۳۲ ۳۳ 837 ؟ نور کی شاہراہوں سے آگے بڑھو خوں بڑھے میرا، تم جو ترقی کرو؛ سال کے فاصلے، لمحوں میں طے کرو قـرة الـ سن ہو ؛ سار باں کیلئے کلام محمود نہ یوں حملہ کریں اسلام پر لوگ ہمارے منہ میں بھی آخر زباں ہے ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۱ ۴۲ ۴۳ ۴۴ ۴۵ ۴۶ ۴۷ ۴۸ ۴۹ ۵۰ نه زور و ظلم کے خوگر ہوں یارب نہ عادت ہم میں ہو جور و جفا کی نگاه مهر سالوں کی خصومت کو بھلاتی ہے خوشی کی اک گھڑی برسوں کی گلفت کو مٹاتی ہے نہ اپنی ہی خبر رہتی ہے؛ نے یادا ئز ہ ہی جب اس کی یاد آتی ہے، تو پھر سب کچھ بھلاتی ہے نخلِ اسلام پر رکھا ہے مخالف نے تمر واغیاثاه که ساعت بڑی بھاری ہے نہ رہتی آرزو دل میں کوئی مجز دید جاناناں کبھی پوری الہی ہماری آرزو ہوتی نہ بنتے تم جو بیگانے ؛ تو پھر پردہ ہی کیوں ہوتا شیه یار آکر خود بخود ہی روبرو ہوتی نفس کی قید میں ہوں ؛ مجھ کو چھڑالے پیارے! غرق ہوں بحر معاصی میں؛ بچالے پیارے! نام کی طرح میرے کام بھی کردے محمود مجھ کو ہر قسم کے عیبوں سے بچالے پیارے! نفس طامع بھی کبھی دیکھتا ہے رُوئے نجات فتح ہوتے ہیں کبھی ملک بھی گف گیروں سے نیک و بد کا نہیں مجھ کو کچھ ہوش سر میں ہردم خُمار رہتا ہے نہیں دل اپنے سینوں میں دھرے ہیں بلکہ انگارے پھنکے جاتے ہیں سر سے پاؤں تک ہم ہجر کے مارے نظر تھی جس پہ رحم کی ؛ جو خوشہ چین فضل تھا ولی غلام جان شار آپ کا وہی تو ہے نہیں ہیں میرے قلب پہ کوئی نئی تجلیاں حرا میں تھا جو جلوہ گر ؛ میرا خُدا وہی تو ہے قدیر خیر و شر؛ میراخُدا وہی تو ہے نہیں ہے جس کے ہاتھ میں کوئی شے ؛ وہی تو ہوں جو سے نکل جائے میری جاں خواہ تن سے نہ دل سے پر میرے ایمان نکلے ہے میری جاں؛ تو نکل جائے نه دل سے پر تیرا پیکان نکلے نکلتی نہ پایا دوسرا تجھ سا کوئی بھی زمین و سب چھان نکلے آسماں ا نہ کی ہم نے کمی کچھ مانگنے میں مگر وہ بخششوں کی کان نکلے ۵۱