بیت بازی — Page 836
836 ۱۲ ۱۳ نہ اُن بن چل سکے اس کی خدائی نہ اُن بن کرسکے زور آزمائی نشاں کو دیکھ کر انکار کب تک پیش جائیگا ارے اک اور جھوٹوں پر قیامت آنیوالی ہے ۱۴ نور خدا کی اس میں علامت ہی کیا رہی توحید خشک رہ گئی؛ نعمت ہی کیا رہی ناپاک زندگی ہے؛ جو دُوری میں گٹ گئی دیوار زهد خشک کی؛ آخر کو پھٹ گئی ۱۶ 12 ۱۸ ۱۹ ۲۰ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۱ در عدن نہ کیوں سوجاں سے دل اُس پر فدا ہو کہ وہ محبوب ہی؛ جانِ وفا ہے نبھا دی اُس نے جس سے دوستی کی پھرا ہے جب بھی بندہ ہی پھرا ہے نہیں کچھ اس کے احسانوں کا بدلہ کسی نے جان بھی دے دی؛ تو کیا ہے نبی کے نام مقدس کی آڑے لے کر وفا کی شان دکھانے چلے جفا کیلئے نہ روک راہ میں مولا شتاب جانے دے کھلا تو ہے تیری جنت کا باب؛ جانے دے گئی گود ماں کی بھر کے پھر خالی کی خالی رہ گئی نقش دل پر ایک تصویر خیالی رہ نازاں ہے اس پہ جس کو فصاحت عطاء ہوئی جادو بیاں کو اپنی طلاقت ناز کلام طاهر سب ہے نبیوں نے سجائی تھی جو بزمِ مہ و انجم واللہ اُسی کی تھی انجمن آرائی نرگس کی آنکھ کم ہے؟ تو لالے کا داغ اُداس غنچے کا دل حزیں ہے؛ تو سوسن اُداس ہے نچ ہے مجھ سے منقطع ہر ذات جس کا تو ہو؛ اُسی کی ذات بنے نہ وہ تم بدلے، نہ ہم ؛ طور ہمارے ہیں وہی فاصلے بڑھ گئے؛ پر تقرب تو سارے ہیں وہی ناداری میں ناداروں کے رکھوالے تھے کچھ لوگ بخشش کے بھکاری؛ گنہگاروں کے سہارے نیچارہ کے عمر ہنڈائی؟ سب دا سیوک سب دا پائی ذات اپنی سی، گم وَڈے؛ پر نت بیندا سی تھکتے نیچارہ کے اندر اندر، اُچا یار کمایا باروں وڑ وٹ رکھی، جیویں لکھ نہ ہووے پلے نالے مین کریں اور ندیاں منہ سے جھاگ اڑائے اپنا سر پتھروں پر پٹکیں؛ سینے کو بھرائے نذر راوی کی تھی میں نے کتنے ارمانوں کے ساتھ ناؤ لیکن کاغذی تھی؛ غرق راوی ہوگئی