بیت بازی — Page 838
838 ۵۲ ۵۳ ۵۴ ۵۵ نوید راحت افزا آرہی ہے بشارت ساتھ اپنے لا رہی ہے نغمہ سُن سُن کے اُس کے؛ سب خوش تھے وہ مگر دل فگار بیٹھی تھی نگاہ لطف میری جستجو میں بڑھتی آتی ہے ہوں وہ میخوار؛ جس کے پاس خود میخانہ آتا ہے نہیں اُس کو حاجت کوئی بیویوں کی ضرورت نہیں اُس کو کچھ ساتھیوں کی ۵۶ نگاہوں نے تیری مجھ پر کیا ایسافسوں ساقی کہ دل میں جوشِ وحشت ہے تو سر میں ہے بنوں ساقی تو ۷ نہ صُورت امن کی مسجد میں پیدا ہے نہ مندر میں زمانہ میں یہ کیسا ہورہا ہے گشت وخوں ساقی ؛ ۵۸ ناز سے، غمزہ سے عشوہ سے، فسوں سازی سے لے گئے دل کو اُڑا کر مرے؛ رکن گھاتوں سے نکلے گی وصل کی کوئی صورت کبھی ضرور چاہت تجھے مری ہے؛ تو چاہت مجھے تری نہ واپس آیا دل اُس در پہ جا کے وہیں بیٹھا رہا ڈھونی رما کے نظر نہ آئے وہ مجھ کو؛ یہ کیسے ممکن ہے حجاب آنکھوں کے آگے سے؟ تو ہٹا تو سہی نکلتے ہیں کہ نہیں رُوح میں پر پرواز تو اپنی جان کو اس شمع میں جلا تو سہی ہر جگہ پر دیکھ لیجے گا؟ کہیں سے پوچھیئے منکر ؛ وراثت کا دعویٰ ذرا دیکھنا مولوی کی ڈھٹائی ۵۹ ۶۰ บ ۶۳ ۶۴ ۶۶ ۶۷ ۶۸ ۶۹ نسخه وصل خُدا بس مری دُکان پر ہے نبوت نام تیرا کر رہے ہیں ساری دنیا میں بلند جان ہتھیلی پر دھرے؛ سر پر کفن باندھے ہوئے نہ پھول اے ابن آدم ! اپنے دادا کی حکایت کو نکالا تھا اُسے ابلیس نے؛ دھوکا سے، جت سے وہ قعر دوزخ میں جل رہا ہے؟ نگاه کارفر زمیں نگاه مومن فلگ اوپر یہ اپنے مولی جا ملا ہے نکال دے میرے دل سے خیال غیروں کا محبت اپنی؛ میرے دل میں ڈال دے پیارے! نہ آئیں اُس کے بُلانے پر وہ ہے ناممکن جو شخص عشق کی راہوں میں دل گداز کرے نہیں جو دعائے یونس کے رہا کوئی بھی چارہ کہ غم والم کی مچھلی مجھے اب نگل رہی ہے ے نماز چھوٹے ؟ تو چھٹ جائے، کچھ نہیں پروا مگر حرام کی روٹی 2۔مدام کھاتا ہے ۲ نہ مئے رہے، نہ رہے خم نہ یہ سبو باقی بس ایک دل میں رہے تیری آرزو باقی