بیت بازی

by Other Authors

Page 817 of 871

بیت بازی — Page 817

817 ۱۵۲ ۱۵۴ ۱۵۶ ۱۵۷ ۱۵۸ ۱۵۹ کبھی ہے کیسے اٹھے وہ بوجھ ؛ جو لاکھوں پر بار ہو جب غم دیا ہے؛ ساتھ کوئی غمگسار دے ۱۵۳ کردے مجھے اسرار محبت سے شناسا دیوانہ بنا کر مجھے فرزانہ بنادے کب پیٹ کے دھندوں سے مسلم کو بھلا فرصت ہے دین کی کیا حالت؛ یہ اس کی بلا جانے ۱۵۵ کیوں قعر مذلت میں گرتے نہ چلے جاتے تم بُوم کے سائے کو؛ جب ظل ہما سمجھے کناره آ ہی جائے گا کبھی تو چلائے جارہے ہیں ہم سفینے کنوئیں جھانکا گیا ہوں عمر بھر میں ڈبویا مجھ کو دل کی دوستی نے جو ناخن تدبیر میں ہلا تا ہوں مجھے شکنجہ میں قسمت مری جکڑتی کامیابی کی تمنا ہے؟ تو کر کوہ کنی یہ پری شیشے میں اتری ہے کہیں باتوں سے کبھی گر یہ ہے، کبھی آہ وفغاں ہے؛ اے دل تنگ آیا ہوں بہت میں تری ان باتوں سے کیا حرج ہے؛ جو ہم کو پہنچ جائے کوئی شتر پہنچے کسی کو ہم سے اگر شتر ؛ بُرا یہ ہے کیا کرتے ہیں ہم سیر دو عالم کسی کو اپنے پہلو میں پٹھا کے کسی دن لے کے چھوڑیں گے وہ یہ مال بھلا رکھوگے کب تک دل چھپا کے کرو دجال کا تم سرنگوں اطراف عالم میں کہ ہے لبریز دل اُس کا؛ محمد کی عداوت سے ؛ کبھی مغرب کی باتوں میں نہ آنا اے میرے پیارو نہیں کوئی ثقافت بڑھ کے اسلامی ثقافت سے کہا تھا طور پر موسیٰ کو اُس نے لن ترانی ؟ پر محمد پر ہوا جلوہ تدلی کا عنایت سے کیا بتاؤں تجھے کیا باعث خاموشی ہے میرے سینہ میں یونہی درد ہوا کرتا 17۔۱۶۱ ۱۶۲ ۱۶۳ ۱۶۴ ۱۶۵ ۱۶۶ ۱۶۷ کلام یزداں آج ملا نے ؛ ہے کبھی جو تھا زندگی کا چشمہ؛ ڈھیروں کپڑے چڑھا رکھے ہیں وہ آج جو ہر بنا ہوا ہے ۱۶۸