بیت بازی

by Other Authors

Page 816 of 871

بیت بازی — Page 816

816 ۱۳۰ ۱۳۱ ۱۳۲ ۱۳۳ ۱۳۴ ۱۳۵ ۱۳۷ ۱۳۸ کچھ یاد تو کچے ذرا سے کوئی اقرار ہے ہے کیا آپ پر الزام ہے؛ یہ خود ہمارا کام ہے غفلت کا یہ انجام ہے؛ سستی کا یہ انعام ہے کہاں وہ مجلس عیش و طرب ؛ وہ راز و نیاز بس آب تو رہ گئی ہے ایک گفتگو باقی کہاں یہ خانہ ویراں ؛ کہاں وہ حضرت ذی شاں کشش لیکن ہمارے دل کی ؛ ان کو کھینچ لاتی ہے کبھی جو روتے روتے یاد میں ہمیں اس کی سو جاؤں شبیر یار آکر مجھ کو سینے سے لگاتی ؛ کبھی کا ہو چکا ہوتا شکار یاس و نومیدی مگر یہ بات اے محمود! میرا دل بڑھاتی ہے کس طرح مانیں؛ کہ مولیٰ کی ہدایت ہے وہ وید کو جب نہ پڑھے؛ اور نہ پڑھائے کوئی کبھی تو جلوہ بے پردہ سے ٹھنڈک پہنچا سینہ و دل میں میرے آگ لگانے والے! کیا نہیں آنکھوں میں اب کچھ بھی مروت باقی مجھ مصیبت زدہ کو آنکھیں دکھانے والے! کون کہتا ہے لگی دل کی بجھائے کوئی عشق کی آگ میرے دل میں لگائے کوئی ۱۴۰ کیوں کروں فرق یونہی دونوں مجھے یکساں ہیں سب ترے بندے ہیں گورے ہوں کہ کالے پیارے کر تو کل جس قدر چاہے؛ کہ اک نعمت ہے یہ یہ بتادے باندھ رکھا اونٹ کا گھٹنا بھی ۱۴۲ کیا نرالی یہ رسم ہے عاشق دے کے دل بے قرار رہتا ہے کیا سبب ہے؟ کہ تجھے دے کے دل اے چشمہ فیض میری جاں معرض الزام ہوئی جاتی ہے کبھی نکلے نہ دل سے یاد تیری کبھی سر سے نہ تیرا دھیان نکلے کیوں نہ پاؤں اُس کی درگہ سے جزائے بے حساب ہے مری نیت تو بے حد؛ گو عمل محدود ہے کیا کعبہ کو جاؤ گے تبھی تم؛ جس وقت تھک جاؤ گے رکشتِ ظلم ہوتے ہوتے ۱۳۹ ۱۴۱ ۱۴۳ ۱۴۴ ۱۴۵ ۱۴۶ ۱۴۷ ۱۴۸ مجھے بلاتا کب میرے غم کو دور کرتا پاس اپنے مجھے ہے ہے ہے کیا خبر ان کو ہے کیا جام شہادت کا مزا دیکھ کر خوش ہورہے ہیں جو سراب زندگی کمال حجرات انسانیت عاشق دکھاتا ہے کہ میدانِ بلا میں بس وہی مردانہ آتا ہے چھوٹی کوئی شے نظر سے نہیں اس کے مخفی بڑی سے بڑی ہو؛ کہ چھوٹی کردے جو حق و باطل میں امتیاز کامل اے میرے پیارے! ایسا فرقان مجھ کو دے دے ۱۴۹ ۱۵۰ ۱۵۱