بیت بازی — Page 815
815 ے مثیل مسیح و عیسی ہوں سخت محتاج میں دُعا کا خُدا تیری ہے قبول کرتا ؛ کہ تو اس اُمت کا ناخُدا ہے کرے قرآن پر چشمک حسد کہاں دشمن میں یہ تاب و تواں ہے کسی کو بھی نہیں مذہب کی پروا ہر اک دنیا کا ہی شیدا ہوا ہے ہوتا ہے؛ اسی کو کاٹتا ہے کساں کو اک نظر دیکھو خُدارا جو کیا جانے تو ؛ کہ کیسا مجھے اضطراب ہے کیسائیاں ہے سینہ؛ کہ دل تک کباب ہے کوئی خوش ہے، شاد ہے؛ سرشار ہے کوئی اپنی جان سے کیا ڈراتے ہیں مجھے خنجر وہ بیزار ہے چن کے سر پر شیخ رہی تلوار ہے کلام اللہ میں سب کچھ بھرا ہے سب بیماریوں کی اک دوا ہے کچھ اُمنگیں تھیں؛ کچھ اُمیدیں تھیں یاد آتے ہیں اب وہ خواب مجھے رکس زور سے کعبہ میں کہی تم نے میری جاں اک گونجتی تکبیر؛ جو مٹتے نہیں ملتی کن کہہ کے؛ نیا باب بلاغت کا ہے کھولا ہے چھوٹی سی تقریر جو مٹتے نہیں ملتی کوچۂ دلبر کے رستہ سے ہے دنیا بے خبر پوچھنا ہو آپ نے گر؛ تو ہمیں سے پوچھیئے رکس قدر تو بائیں توڑی ہیں؛ یہ ہے دل کو خبر کس قدر پونچھے ہیں آنسو؛ آستیں سے پوچھیئے کس قدرصد مے اُٹھائے ہیں؛ ہمارے واسطے قلب پاک رحــمـة لـلـعـالـمیـں سے پوچھیے کہتے ہیں، آ دنیا کو دیکھ ہیں اس میں کیسے نظارے میں کہتا ہوں بس چپ بھی رہو یہ میری دیکھی بھالی ہے کافر کے ہاتھ میں بندوقیں؛ کافر کے ہاتھ خزانوں مومن کے ہاتھ سلاسل میں مومن کی پیالی خالی پر ہے کبھی اس چشمہ صافی کے ہمسائے میں بستا ہے کبھی اک قطره آب مقطر کو ترستا ہے کبھی خروار غلے کے اٹھا کر پھینک دیتا ہے کبھی چیونٹی کے ہاتھوں سے بھی دانہ چھین لیتا ہے کبھی کہتا ہے تو اللہ کو کس نے بنایا ہے؟ کبھی کہتا ہے راز خلق دنیا کس نے پایا ہے؟ کمال ذات انسانی یہ سو سو ناز کرتا ہے بھی شانِ خُداوندی پہ سوسو حرف دھرتا ہے کلیم اللہ کے پیرو بنے ہیں؛ پیروشیطاں دکھایا سامری نے کیا تماشہ اپنی لُعبت سے 1+9 11۔۱۱۲ ۱۱۳ ۱۱۴ ۱۱۵ ۱۱۶ ۱۱۷ ۱۱۸ ١١٩ ۱۲۰ ۱۲۱ ۱۲۲ ۱۲۳ ۱۲۴ ۱۲۵ ۱۲۶ ۱۲۷ ۱۲۸ ۱۲۹