بیت بازی — Page 790
۴ 790 در ثمین زندگی بخش جام احمد ہے کیا پیارا یہ نام احمد ہے زلزلہ سے دیکھتا ہوں، میں زمیں زیروزبر وقت اب نزدیک ہے؛ آیا کھڑا سیلاب ہے ہجوم خلق زمین قادیاں ؛ اب محترم ہے سے؛ ارض حرم ہے زعم میں ان کے مسیحائی کا دعوی میرا افترا ہے؛ جسے از خود ہی بنایا ہم نے ودر عدن زخم جگر کو مرہم وصلت ملے گا کب ٹوٹے ہوئے دلوں کے سہارے کب آئیں گے زندگی ہو جسے عزیز بہت نہ مرنے کی دل میں ٹھہرائے وہ کلام طاهر زندگی میں نہ کثافت رہی کوئی، نہ جمود؛ ایسی موسیقی، جو اک آبی پرندے کی طرح؛ ساری بے ربطگی ، موسیقی میں تحلیل ہوئی اپنے پر وسعتِ افلاک میں پھیلائے ہوئے ۱۰ ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ کلام محمود زمیں سے جھگڑا، فلک سے قضیہ؛ یہاں زمین نہیں اک ہے وم بھی چین آتا؟ ہے شور اور وہاں شرابہ خبر نہیں، ان کو کیا ہوا ہے شاہدے زمین و آسماں ہیں؛ اس جہاں میں ہر طرف پھیلی وبا ہے و آسماں کی بادشاہت عطاء کی مجھ کو تیری بندگی نے زندگی اس کی ہے؛ دن اس کے ہیں راتیں اس کی وہ جو محبوب کی صحبت میں رہا کرتا ہے زمانہ کو حاصل ہو نور نبوت جو سیکھے قوانین و دستور ہم سے دل؛ جو ہوچکا تھا مدتوں سے مندمل پھر ہرا ہونے کو ہے؛ وہ پھر ہرا ہونے کو ہے زبان میری تو رہتی ہے؟ اُن کے آگے سنگ نگاہ میری؛ نگاہوں سے اُن کی لڑتی ہے زشت رو میں ہوں؛ آپ مالک حسن چھوڑیئے؟ زخم دیجئے نقاب مجھے زمانہ دشمنِ جاں ہے؛ نہ اس کی جانب پھر تو اُس کو اپنی مدد کیلئے بلا تو سہی