بیت بازی — Page 767
767 ۲۹ جاڑے کی رُت ظہور سے اس کے پلٹ گئی عشق خدا کی آگ؛ ہر اک دل میں آٹ گئی جتنے درخت زندہ تھے؛ وہ سب ہوئے ہرے پھل اس قدر پڑا؛ کہ وہ میووں سے لد گئے ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۲ ۴۳ ہے جس دیں کا صرف قصوں پہ سارا مدار ہے وہ دیں نہیں ہے؛ ایک فسانہ گذار جتنے ہیں فرقے؛ سب کا یہی کاروبار ہے قصوں میں معجزوں کا بیاں بار بار ہے جو مفتری ہے؛ اس سے یہ کیوں اتحاد ہے کس کو نظیر ایسی عنایت کی یاد ہے جس کا رفیق ہوگیا ہر ظالم و غوی جس کی مدد کے واسطے آئے تھے مولوی ہے انجام فاسقوں کا؛ عذاب سعیر ہے جو متقی ہے؟ اس کا خدا خود نصیر جس کی تعلیم ؛ یہ خیانت ہے ایسے دیں پر ہزار لعنت ہے جس نے پیدا کیا؛ وہی جانے دوسرا کیونکر اس کو پہچانے جس بات کو کہے؛ کہ کروں گا یہ میں ضرور ٹلتی نہیں وہ بات؛ خدائی یہی تو ہے جب سے اے یار! تجھے یار بنایا ہم نے ہر نئے روز نیا نام رکھایا ہم نے ودر عدن جن کی بہادری کی بندھی دھاک ہر طرف تن تن کے چل رہے ہیں؛ شجاعت پہ ناز ہے جانِ جہاں! تجھی پہ تو زیبا ہے ناز بھی یہ کیا! کہ چندروز کی حالت پہ ناز ہے جب وقت مصائب کی صورت؛ جب تاریکی چھا جاتی ہے؟ اک آتا ہے بندے کو دکھلاتا ہے غم کا کا بادل جب آنکھیں بھر بھر آتی ہیں؟ اُمیدیں ڈوبی جاتی ہیں پاس کا دریا چڑھتا ہے؛ دل اُس میں غوطے کھاتا ہے ناؤ بھنور میں گھرتی موت نظر میں پھرتی سینے میں کھٹتا حیلے ہو چکتے ہیں؟ ہے انساں بے بس ہو جینا کڑوا لگتا ہے ہے؛ بھاتا ہے دل میں ہوگیں اُٹھتی ہیں مرنا دل کو ان ۴۵