بیت بازی — Page 768
768 ۴۶ ۴۷ ۴۸ ۴۹ جب بڑے بڑے جی چھوڑتے ہیں؛ اس وقت بس ایک مسلماں ہے؛ جاں دینے کو سر پھوڑتے ہیں جو صبر کی شان دکھاتا جب باپ کی جھوٹی غیرت کا خوں؛ جس طرح جنا ہے سانپ کوئی؛ جوش میں آنے لگتا تھا ہے تیری گھبراتی تھی یوں ماں جو دُور ہیں؛ وہ پاس ہمارے کب آئیں گے دل جن کو ڈھونڈتا ہے؛ وہ پیارے کب آئیں گے جو سر کو ختم کئے تری تقدیر کے حضور تیری رضا کو پا کے سدھارے کب آئیں گے ۵۰ جو ٹوٹ کر گئے ہیں؛ اسی آسمان سے پھر لوٹ کر ادھر؛ وہ ستارے کب آئیں گے جب مجھ کو نہ پائیں گے؛ تو گھبرائیں گے دونوں یارب! میری امی کے پسر تیرے حوالے جو رہن ہوچکی ابلیس کے خزانے میں وہ روح نذر شہنشاہ انبیاء کیلئے؟ ۵۳ جھلسے گئے ہیں سینہ ودِل جاں بلب ہیں ہم جھڑیاں کرم کی؛ فضل کی برسات چاہیئے ۵۱ ۵۲ ۵۴ ۵۵ ۵۶ جاودانی ذلت جو چاہتے تھے، سبھی خوار ہوگئے جو اس نے نور بھیجا تھا جہاں میں ہوا واصل جھنڈا رہا بلند محمد کے دین کا کلام طاهر جب سے خدا نے ان عاجز کندھوں پر بار امانت ڈالا راہ میں دیکھو کتنے کٹھن اور کتنے مہیب مراحل آئے جاؤں ہر دم تیرے وارے؛ تُو نے اپنے کرم سے؛ میرے جانی میرے پیارے! میرے خود ہی کام بنائے سارے جو چاہیں کریں؛ صرف نگہ ہم سے نہ پھیریں جو کرنا ہے؛ کر گزریں، مگر اپنا بتا کے جو کھنڈر تھے؛ محل بنائے گئے کتنے محلوں کے کھنڈرات بنے جہاں اہلِ جفا؛ اہلِ وفا پر وار کرتے ہیں سردار اُن کو ہر منصور کو لٹکانہ آتا ہے جہاں شیطان، مومن پر رمی کرتے ہیں؛ وہ راہیں جہاں پتھر سے مردحق کو سر ٹکرانا آتا ہے جہاں پسرانِ باطل عورتوں پر وار کرتے ہیں زمردان کو یہ شیوہ مردانہ آتا جس رخ دیکھیں ، ہرمن موہن تیرا مکھڑ ہی تکتا ہے ہر اک محسن نے تیرے حسن کا ہی احسان اُٹھایا ہے ہے ۵۷ ۵۸ ۵۹ ۶۰ ۶۱ ۶۲ ۶۳