بیت بازی — Page 766
766 ۱۰ ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۰ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ سے یہ نور ملا؛ نور پیمبر سے ہمیں ذات سے حق کی؛ وجود اپنا ملایا ہم نے جو پیچھے لکھتے لکھاتے رہے خدا جانے کیا کیا بناتے رہے جو نانک کی مدح و ثناء کرتے تھے وہ ہر شخص کو یہ کہا کرتے تھے جب تیرا نور آیا جاتا رہا اندھیرا یہ روز کر مبارک سبــــــــــان مــــن یـــرانـــی جی مت لگاؤ اس سے؛ دل کو چھڑاؤ اس سے رغبت ہٹاؤ اس سے بس دُور جاؤ اس سے جب تک عمل نہیں ہے؛ دل پاک وصاف سے کمتر نہیں یہ مشغلہ؛ بُت کے طواف سے جو دی ہے مجھ کو؛ وہ رکس کو عطا دی فسبحان الذى اخزى الاعادي جو مرتا ہے؛ وہی زندوں میں جاوے جو چلتا ہے؛ وہی مردے جلا دے جس کو دیکھو، بد گمانی میں ہی حد سے بڑھ گیا گر کوئی پوچھے، تو سوسو عیب بتلانے کو ہے جب کھل گئی سچائی؛ پھر اس کو مان لینا نیکوں کی ہے یہ خصلت؛ راہِ حیا یہی ہے جو ہو مفید، لینا؛ جو بد ہو، اس سے ، بچنا عقل و خود یہی ہے؛ فہم و ذکا یہی ہے جس آریہ کو دیکھیں؛ تہذیب سے ہے عاری کس کس کا نام لیویں؛ ہرسُو وبا یہی ہے جاں بھی اگرچہ دیویں؛ ان کو بطور احساں عادت ہے ان کی کفراں؛ رنج وعنا یہی ہے جاں بھی ہے ان پہ قرباں گردل سے ہوویں صافی پس ایسے بدکنوں کا مجھ کو گلا یہی ہے جتنے نبی تھے آئے؛ موسی" ہو یا کہ عیسی مگار ہیں وہ سارے؛ ان کی ندا یہی ہے جس استری کو لڑکا پیدا نہ ہو پیا سے ویدوں کی رو سے؛ اس پر واجب ہوا یہی ہے جب ہے یہی اشارہ؛ پھر اس سے کیا ہے چارہ جب تک نہ ہوویں گیارہ لڑکے؛ روا یہی ہے جب ہو گئے ہیں ملزم؛ اُترے ہیں گالیوں پر ہاتھوں میں جاہلوں کے؛ سنگِ جفا یہی ہے جلد آ پیارے ساقی! اب کچھ نہیں ہے باقی دے شربت تلاقی؛ حرص و ہوا یہی ہے جلد آمرے سہارے غم کے ہیں بوجھ بھارے منہ مت چھپا پیارے! میری دوا یہی ہے جب سے ملا وہ دلبر؛ دشمن ہیں میرے گھر گھر دل ہوگئے ہیں پتھر؛ قدر و قضا یہی ہے جب اس نے ان کی گنتی بھی نہ جانی کہاں من من کا ہو انتر گیانی