بیت بازی — Page 760
760 ۴۸ ۴۹ ۵۰ ۵۱ تجھے قسم تیرے ستار نام کی پیارے! بروئے حشر سوال و جواب جانے دے کلام طاهر تو خوں میں نہائے ہوئے ٹیلوں کا وطن ہے گل رنگ شفق؛ قرمزی جھیلوں کا وطن ہے توحید کے پرچارک ؛ مرے مُرشد کا نام محمد ہے ہے بات یہی برحق ؛ مرے مُرشد کا نام محمد ہے ؛ تب عرش معلی سے اک نور کا تخت اُترا اک فوج فرشتوں کی ہمراہ سوار آئی تب آئے وہ ساقی کوثر ؛ مستِ مئے عرفان پیمبر پیر مغان باده اطہر کے نوشوں کی عید بنانے تم دعائیں کرو، یہ دعا ہی تو تھی؛ ہے ازل سے تقدیر نمرودیت؛ جس نے توڑا تھا سر کبر نمرود کا آپ ہی آگ میں اپنی جل جائیگی ۴ تو تو ایسا نہیں محبوب؛ کوئی اور ہوں گے وہ جو کہلاتے ہیں؛ دل توڑ کے جانے والے ۵۲ ۵۳ ۵۶ ۵۷ ۵۸ ۵۹ تو ہر بار سر رہ سے پلٹ آتا ہے نہ دل میں ہر سمت سے پل پل مرے آنے والے تم چلے آئے میں نے جو آواز دی؛ کریں پر پر شکسته وہ کیا؟ کو مولیٰ نے توفیق پرواز دی جو پڑے رہ گئے پشمک دُشمناں کیلئے تجھ ہے عیاں میرے پیاروں پر غیروں نے ستم جو ڈھایا ہے تو جور و جفا کی نگری صبر ووفا کے دیس سے آیا ہے میرے دل کی شش جہات بنے اک نئی میری کائنات بنے بنے تیرے منہ کے سنگ سہانے بول دل کے بھاری معاملات دُور دُور کے دیسوں سے؛ تو میرے دل کے کھیتوں میں؛ قافله قافله آؤ گے پھولیں گی فصلیں سرسوں کی تیری راہوں میں کیا کیا ابتلا روزانہ آتا ہے وفا کا امتحاں لینا؛ تجھے کیا کیا نہ آتا ہے تصور ان دنوں جس رہ سے بھی ربوہ پہنچتا ہے تعجب ہے؛ کہ ہراس راہ پر ننکانہ آتا ہے تم نے مری جلوت میں نئے رنگ بھرے ہیں تم نے مری تنہائیوں میں ساتھ دیا ہے تم چاندنی راتوں میں میرے پاس رہے ہو تم سے ہی مری نقری صہوں میں ضیا ہے บ ۶۲ ۶۳ ۶۴