بیت بازی

by Other Authors

Page 759 of 871

بیت بازی — Page 759

759 تیری وفا ہے پوری؛ ہم میں ہے عیب دُوری طاعت بھی ہے ادھوری؛ ہم پر بلا یہی ہے تجھ میں وفا ہے پیارے! نیچے ہیں عہد سارے ہم جاپڑے کنارے جائے بکا یہی ہے تیرے مکروں سے اے جاہل مر ا نقصاں نہیں ہرگز کہ یہ جاں؛ آگ میں پڑ کر سلامت آنے والی ہے مرا تم دیکھتے ہو؛ قوم میں عفت نہیں رہی وہ صدق، وہ صفا، وہ طہارت نہیں رہی تب وہ خدائے پاک نشاں کو دکھاتا ہے غیروں پہ اپنا رعب نشاں سے جماتا ہے تقوی کی جڑ خدا کیلئے خاکساری ہے عفت جو شرط دیں ہے؛ وہ تقویٰ میں ساری ہے تم دیکھ کر بھی بد کو بچو بدگمان سے ڈرتے رہو عقاب خدائے جہان سے تم نے تو مجھ کو قتل کرانے کی ٹھانی تھی یہ بات اپنے دل میں؛ بہت پہل جانی تھی تھے چاہتے صلیب پہ یہ یہ شخص کھینچا جائے تا تم کو ایک فخر سے یہ بات ہاتھ آئے کے؛ پھر بھی گرفتار ہوگئے یہ بھی تو ہیں نشاں؛ جو نمودار ہو گئے تم بد ودر عدن مقصود جو کہ پہنچائے وہی ހހ تیرے دل میں میرا ظہور ہے تر ائر ہی خودسر طور ہے دیا تو نے تیری آنکھ میں مر انور ہے مجھے کون کہتا ہے دُور ہے مجھے دیکھتا جو نہیں ہے، تو یہ تری نظر کا قصور ہے تمہارے دم سے ہمارے گھروں کی آبادی تمہاری قید صدقے ہزار آزادی تجھ کو تیرا ہی واسطہ پیارے! میرے پیاروں کو دے شفا پیارے! چاہے اگر خاک کی چٹکی میں شفادے ہر ذرہ ناچیز کو اکسیر بنادے تسکین دل و راحتِ جاں میل ہی نہ سکتی آلام زمانہ سے اماں مل ہی نہ سکتی تقدیر یہی ہے؛ تو یہ تقدیر بدل دے تو مالک تحریر ہے؛ تحریر بدل دے تیرے سامنے ہاتھ پھیلا رہی ہوں مری شرم رکھ ؛ میری جھولی بھرا دے تڑپا کرے نہ اب کوئی گلفام کیلئے رونا ہو جس کو؛ روئے وہ اسلام کیلئے سب ملک ہم سے چھن گئے ؛ شوکت نہیں رہی تازہ ستم ہے یہ کہ خلافت نہیں رہی ہے۔۲۸ ۲۹ ۳۰ ۳۱ ۳۲ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ ۴۲ ۴۳ ۴۴ ۴۵ ۴۶ ۴۷