بیت بازی — Page 761
761 ۶۶ ۶۷ تیری بے حساب بخشش کی گلی گلی بدادوں یہ نوید تیرے چاکر گنہگار تک تو پہنچے تم وہی ہو؟ تو کرو کچھ تو مداوا غم کا جن کے تم چارہ تھے؛ وہ درد تو سارے ہیں وہی تم نے جاتے ہوئے پلکوں پہ سجا رکھے تھے جو گہر ؛ اب بھی مری آنکھوں کے تارے ہیں وہی ۶۸ تو روٹھ کے؛ اُمیدوں کا دل توڑ گیا ہے اے میری اُمنگوں کے سہاروں کے سہارے تم جن کا وسیلہ تھیں؛ وہ روتی ہیں، کہ تم نے دم توڑ کے؛ توڑے ہیں ہزاروں کے سہارے تو اپنے حسیں خوابوں کی تعبیر بھی دیکھے اک تازہ نئی صبح کی تنویر بھی دیکھے تیری سرزمیں کی خاک سے مثلِ آدم اولیا ء اُٹھے پھر انہی کی خاک پاک سے؛ بے شمار باخدا اُٹھے تو میرے دل کا نُور ہے؛ اے جانِ آرزو روشن تجھی سے آنکھ ہے؛ اے نیئر برگی تاریکی پہ پہ تاریکی؛ گمراہی پر گمراہی ابلیس نے کی اپنے لشکر کی صف آرائی 19 2۔اے ۷۲ ۷۳ ۷۴ ۷۵ 22 ZA تقدیر ہو چکا کلام محمود پیر مغاں ہے ترقی احمدی فرقہ کی دیکھے بٹالہ میں جو اک تم کہتے ہو؛ امن میں ہیں ہم، اور منہ کھولے ہوئے کھڑی؛ کلا ہے مقدر قسمت میں تمھاری زلزلہ ہے تم اب بھی نہ آگے بڑھو؛ تو غضب ہے کہ دشمن ہے بے گس؛ تمھارا خُدا ہے تری عقل کو قوم! کیا ہو گیا ہے اُسی کی ہے بدخواہ؛ جو رہنما ہے تمام دنیا میں تھا اندھیرا؛ کیا تھا ظلمت نے یاں بسیرا ہوا ہے جس سے جہان روشن ؛ وہ معرفت کا یہی دیا ہے ؛ ۸۰ تنگ ہوں اس بے وفا دنیا سے میں مجھ کو یارب! خواہش دیدار ہے تیرے چاکر ہوں ہم پانچوں الہی ! ہمیں طاقت عطا کر تو وفا کی تری خدمت میں پائیں جان و دل کو گھڑی جب چاہے آجائے قضا کی تغافل ہو چکا صاحب! خبر لیجے نہیں تو پھر کوئی دم میں یہ سُن لو گے ؛ فلاں کی نعش جاتی ہے ۷۹ Al ۸۲ ۸۳ ہے ۸۴ تیری رہ میں بچھائے بیٹھے ہیں دل مڈتوں سے ہم سواری؛ دیکھئے آب در با! کب تیری آتی ۸۵ تاک میں تشکر محمود ابھی بیٹھا ہے ہاں! سمجھ کر ذرا ناقوس بجائے کوئی