بیت بازی — Page 712
712 کلام محمود ورنہ صدموں نے تو تھا؛ جان سے مارا ہم کو آگے مشکل تھا بہت؛ کرنا گزارا ہم کو وہ لطف ہے خلش میں؛ کہ آرام میں نہیں تیر نگاہ کیوں میرے سینہ کے پار ہو وصل مولیٰ کے جو بھوکے ہیں؛ انہیں سیر کرو وہ کرو کام؛ کہ تم خوانِ ہدگی ہو جاؤ وقتِ حسرت نہیں یہ ؛ ہمت و کوشش کا ہے وقت عقل و دانائی سے کچھ کام لے؛ نادان نہ ہو وہ بھی کچھ یار ہے؛ جو یار سے یک جاں نہ کرے وہ بھی کیا یار ہے؛ جو خُو بیوں کی کان نہ ہو وصل کا لطف تبھی ہے؟ کہ رہیں ہوش بجا دل بھی قبضہ میں رہے؛ پہلو میں دلدار بھی ہو وہ اپنا سر ہی پھوڑے گا؛ وہ اپنا خون ہی بیٹے گا دشمن حق کے پہاڑ سے گر ٹکراتا ہے؛ ٹکرانے دو وہ تم کو حسین بناتے ہیں ؛ اور آپ یزیدی بنتے ہیں یہ کیا ہی سستا سودا ہے؛ دشمن کو تیر چلانے دو وہ اُس کی تیکھی پچتون میں جنت کا نظارہ دیکھتا ہے اس کو رو جفا کے واسطے تم پابندِ وفا کو رہنے دو 'ہ' سے 'و' 'ہ' سے شروع ہو کر 'و' پر ختم ہونے والے اشعار ) تعداد گل اشعار 26 2 4 4 16 در ثمين در عدن كلام طاهر کلام محمود i ii iii iv 1۔۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ 12