بیت بازی — Page 671
671 ۴۶ ۴۷ ۴۸ ۴۹ ۵۰ ۵۱ ۵۲ ۵۳ ۵۴ ۵۶ و مکاں میں ہماری بات میں برکت ہو ایسی کہ ڈالے رُوح مُردہ استخواں میں ہماری نسل کو یارب! بڑھا دے ہمیں آباد کر کون و ہر دل میں پُر ہے بغض و کہیں ہر نفس شیطاں کا ر ہیں جو ہو فدائے نورِ دیں؛ کوئی نہیں، کوئی نہیں ہرایک کے بے سر میں کہیں ؟ ہے کمر کا دیکھیں اک دم کو یاد آتی نہیں؛ درگاهِ رَبُّ العالمیں ہوں تو دیوانہ ؛ مگر بہوں سے عاقل تر ہوں میں ہوں تو بیماروں میں ، لیکن تیرے بیماروں میں ہوں ہورہا ہوں مست دید چشم مست یار میں لوگ یہ سمجھے ہوئے بیٹھے ہیں کے خواروں میں ہوں ہے گالیوں کے ہوا اس کے پاس کیا رکھا غریب کیا کرے مخفی ہے وہ؛ مُصیب ہوں میں ہے عقل نفس سے کہتی کہ ہوش کر ناداں! مرا رقیب ہے تو ؛ اور تیری رقیب ہوں میں ؛ ہے رضائے ذاتِ باری؛ آب رضائے قادیاں مدعائے حق تعالے مدعائے قادیاں ہاتھ میں کیوں نہیں وہ زور ؛ بات میں کیوں نہیں اثر ؟ چھینی گئی ہے سیف کیوں؛ کائی گئی زبان کیوں؟ ہو کے غلام؛ تو نے جب رسم وداد قطع کی اُس کے غلام در جو ہیں؛ تجھ پہ ہوں مہربان کیوں بارش پھیلا رہے خوب اس کا داماں۔آمین ہو عادت مہر و لطف و احساں۔آمین ہو فضل خُدا کی اس ہو مریم زخم دل ہو عرصة فکر رشک ہو دونوں ہے شکسته میدانِ خیال صد گلستاں - آمین جہان میں معرز ہوں چھوٹے بڑے سبھی ثناخواں۔آمین اُنھیں دیکھ کے حیران ہوئے جاتے ہیں خود بخود چاک گریبان ہوئے جاتے ہیں ترقی پہ مرا جوشِ جنوں ہر ساعت تنگ سب دشت و بیابان ہوئے جاتے ہیں ہے غم نفس ادھر؟ فکر اُدھر عالم کا چین ممکن ہی نہیں؛ امن مقدر ہی نہیں ہوا میں اُڑ گئے نالے گئیں ہے کار فریادیں ہر شب اسی اُمید میں سوتا ہوں دوستو ! شاید ہو وصل یار میتر؛ مگر کہاں! لحظه انتظار ہے؛ ہر وقت جستجو رہتا ہے اب تو منہ پہ مرے؛ بس کدھر، کہاں ہچکولے کھا رہی ہے مری ناؤ دیر سے دیکھوں کہ پھینکتی ہے قضا و قدر کہاں ۵۷ ΟΛ ۵۹ ۶۰ บ ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۶۶ ۶۷