بیت بازی

by Other Authors

Page 672 of 871

بیت بازی — Page 672

672 ۶۸ ۶۹ اے ۷۲ ۷۳ ۷۴ ۷۵ 22 ور ۸۰ ۱ ہے دل میں عشق ؛ پر مرے منہ میں زباں نہیں نالے نہیں ہیں، آہیں نہیں ہیں؛ فغاں نہیں ہے حاکم تمھیں گھر جانے کا؛ اور ہم کو ابھی کچھ ٹھہرنے کا تم ٹھنڈے ٹھنڈے گھر جاؤ؛ ہم پیچھے پیچھے آتے ہیں ہوا جو مکہ میں ٹور پیدا؛ اُسی کو ملکہ نے ڈور پھینکا کبھی ملی ہے نبی کو عزت بتا تو اسے معترض ! وطن میں نبی ۸۲ ۸۳ ۸۴ ۸۵ ہیں رنگ رلیاں منا رہے لوگ وہ لطف اُن کو کہاں میسر ، ملا جو مجھ کو تری لگن میں ساغر کے چھلگ رہے ہیں ہزاروں کلیاں چٹک رہی ہیں؟ نسیم رحمت کی چل رہی ہے؟ ہزاروں غنچے مہک رہے ہیں چمن چمن میں، چمن چمن میں ہمیں بھی تجھ سے ہے نسبت؛ او برند بادہ نوش نگاه یار کو ہم بھی شراب کہتے ہیں ہیں مغرب و مشرق کے تو معشوق ہزاروں بھاتی ہیں مگر آپ کی ہی مجھ کو ادائیں ہے چیز تو چھوٹی سی ؛ مگر کام کی ہے چیز دل کو بھی میرے اپنی اداؤں سے لبھائیں ہر ظلم بھی سہہ، ہر بات بھی سُن؛ غدار نہ بن بُزدل بھی نہ بن ؛ پر دین کا دامن تھامے ره مومن کا کردار نہیں ہوں صدر کہ شاہ کوئی بھی ہوں؟ سر کار مری ہے مدینتہ میں؛ ی لوگ مری سر کار نہیں میں ان سے دب کر کیوں بیٹھوں ہماری جان تو ہاتھوں میں اُس کے ہے لکھو جدھر بھی، جب بھی ؛ وہ اس کو پھرائے پھرتے ہیں ہر مصیبت میں دیا ساتھ تمہارا؛ لیکن تم کو کچھ ایسی شکایت ہے؛ کہ جاتی ہی نہیں ہے قیادت سے بھی پر لطف اطاعت مجھ کو ہوں تو میں پیر ؛ مگر شکر ہے بے پیر نہیں ہفت اقلیم کو جو راکھ کئے دیتی تھی تو نے وہ آگ بجھائی تھی؛ ہے تیرا احساں ہوا کیا؟ کہ دشمن ہے ابلیس پیارو! خُدا نے نوازا ہے ہر دوسرا میں ہے قرآن میں جو سُرور اور لذت نہ ہے مثنوی میں نہ بانگِ درا میں ہم سفر سنبھلے ہوئے آنا؛ کہ رستہ ہے خراب پر قدم ڈھیلا نہ ہو، میں تیز رفتاروں میں ہوں ہیں رورو کے آنکھیں بھی جاتی رہیں مری جان! اب تو ہنسا دے ہمیں