بیت بازی

by Other Authors

Page 670 of 871

بیت بازی — Page 670

670 ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۰ ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ ام ۴۲ ۴۳ ۴۴ ۴۵ ہمارے حال کے جب آئینے میں جھانکتے ہیں تو اس میں اپنے زبوں حال؛ کل کے دیکھتے ہیں ہوشیار بننے والوں کو بڑھو بناؤں میں جب مجھ کو کھانے دوڑیں ؟ کہیں بھاگ جاؤں میں ہم نے تو آپ کو اپنا اپنا کہہ کر لاکھ بلا بھیجا اس پر بھی آپ نہیں آئے آپ اپنے ہیں کہ پرائے ہیں کلام محمود ہو کر غلام احمد مرسل کے آئے ہیں قربان جن کے نام پہ ہوتے ہیں انس وجاں ہے تیاری سفر کی کارواں میں میرا دل ہے ابھی خواب گراں میں ہراک عارف کے دل پہ ہے وہ ظاہر ہر اک رنج و بلا سے ہر اک جا ثور ہم ہیں محفوظ خُدا مخفی نہیں ہے آسماں میں مصیبت پڑرہی ہے گو جہاں میں تیرے منور تیرا ہی جلوہ ہے؛ کون و مکاں میں ہے اک مخلوق آپ دوالمین کی بھلا طاقت ہی کیا ہے آسماں میں ہے خوف مجھ کو بہت اس کی طبع نازک سے ہوا وہ پاک؛ جو قدوس کا ہوا شیدا جائے ! بد بختی قسمت کہ لگا ہے مجھ کو نہیں افتخار نہیں پلید ہے؛ جسے حاصل ہے یہ کہ مجھے آرزوئے یار نہیں وہ ہوگئی ہیں انتظار یار میں آنکھیں سپید اک بُت سیمیں بدن کا طالب دیدار ہوں ہائے! وہ دل؛ کہ جسے طر زوفا یاد نہیں وائے! وہ رُوح؛ جسے قول ملی یاد نہیں مرض جس کی مسیحا کو دوا یاد نہیں ہم وہ ہیں پیار کا بدلہ جنھیں ملتا ہے پیار بھولے ہیں روز جزا اور جزا یاد نہیں ہزاروں دامنوں پر خُون کے دھبتے چمکتے ہیں میرے آنے پہ کیا ہولی ہوئی ہے گوئے قاتل میں ہزاروں ہیں؛ کہ ہیں محروم اس سے نظر سے جن کی ہے وہ نور پنہاں ہیں اس دنیا میں جتنے لوگ حق ہیں سچائی ے جنہیں کوئی نہیں کیں ہوئی جب ہفت سالہ تو خُدا نے پہنایا اُسے بھی تاج زریں ہوئے چھوٹے بڑے ہیں آج شاداں نظر آتا نہیں کوئی بھی غمگیں مثل باغ جنت ہو آبادی ہمیشہ اس مکاں میں ہمارا گھر ہو