بیت بازی — Page 667
667 ۵۰ ۵۱ ۵۲ ۵۳ ۵۴ ۵۵ ۵۶ ۵۷ وہ وہ عاشقوں کیلئے بیقرار ہیں خود بھی وہ بیقرار دلوں کو قرار دیتے ہیں جیتنے پہ ہوں مائل؛ تو عاشق صادق خوشی سے جان کی بازی بھی ہار دیتے ہیں وہی فلگ پہ چمکتے ہیں جن کے شمس و قمر جو در پہ یار کے عمریں گزار دیتے ہیں وہ ایک آہ سے بے تاب ہو کے آتے ہیں ہم اک نگاہ پہ سوجان ہار دیتے ہیں وہ عمر ؛ جس میں کہ پاتی ہے عقل نو رو جلا تم اس کو شیب کہو؛ ہم کباب کہتے ہیں وہ سلسبیل کا چشمہ؛ کہ جس سے ہو سیراب حسد سے اس کو عدُو کیوں سراب کہتے ہیں وہی خاک؛ جس سے بنا میرا پتلا میں اُس خاک کو دیکھنا چاہتا ہوں وہ خاک سے پیدا کرتا ہے؛ وہ مُردے زندہ کرتا ہے جو اُس کی راہ میں مرتا ہے؛ وہ زندہ ہے، مُردار نہیں وہ جو کچھ مجھ سے کہتا ہے؛ پھر میں جو اُس سے کہتا ہوں اک راز محبت ہے؛ جس کا اعلان نہیں، اظہار نہیں وہی ہے چال، وہی راہ ہے؛ وہی ہے روش ستم وہی ہیں؛ تو پھر شرمسار کیسے ہیں وہ لالہ رخ ہی یہاں پر نظر نہیں آتا تو اس جہان کے یہ لالہ زار کیسے ہیں وہ حسرتیں ہیں؛ جو پوری نہ ہوسکیں، افسوس! بتاؤں کیا؟ میرے دل میں مزار کیسے ہیں وہ جس نے ہم کو کیا برسرِ جہاں رُسوا اُسی کی یاد کو دل میں چٹھیائے پھرتے ہیں وہ پھول ہونٹوں سے اُن کے چھڑے تھے ؟ جو اک بار انہی کو سینہ سے اپنے لگائے پھرتے ہیں وہ دیکھ لے؛ تو ہر اک ذرّہ پھول بن جائے وہ موڑے منہ ؟ تو سب اپنے پرائے پھرتے ہیں ؛ ۶۵ وسوسے غیر نے ڈالے؛ کئے اپنوں نے فساد میری تیری وہ رفاقت ہے؛ کہ جاتی ہی نہیں وہ بھی ہیں کچھ ؛ جو کہ تیرے عشق سے مخمور ہیں دُنیوی آلائشوں سے پاک ہیں؛ اور دُور ہیں ۵۸ ۵۹ ۶۰ บ ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۶۶ ۶۷ ۶۸ ۶۹ 4۔وہ خود دیتے ہیں جب مجھ کو؛ بھلا انکار ممکن ہے وہ کثرت کثرت پہ اپنی ہیں رکھتے گھمنڈ میں کیوں فاقے رہوں؛ شاہ کے گھر میں ہوا مہماں اپنے کرم بڑھا دے ہمیں ނ وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں پر ؛ اُمید لگائے بیٹھے ہوں وہ ادنی ادنی خواہش کو مقصود بنائے بیٹھے ہوں وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر شیروں کی طرح غزاتے ہوں ادنی سا تصور اگر دیکھیں؛ تو منہ میں گف بھر لاتے ہوں