بیت بازی — Page 666
666 ۳۰ ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ وہ روز آتا ہے گھر پر ہمارے ٹی وی پر تو ہم بھی اب اسے انگلینڈ چل کے دیکھتے ہیں وہ جس کی بچے بھی کرتے ہیں پیشوائی روز وہ اُس کو شوق سے سنتے ہیں؛ بلکہ دیکھتے ہیں کلام محمود وہ وہ ہم؛ وہ دل نہیں؛ جو جُدائی میں بے قرار نہیں نہیں وہ آنکھ؛ جو فُرقت میں اشکبار نہیں ؛ کہ فکر میں دیں کے، ہمیں قرار نہیں وہ تم ؛ کہ دینِ محمدؐ سے کچھ بھی پیار نہیں لوگ؛ درگہِ عالی میں جن کو بار نہیں اُنھیں فریب و دغا مکر سے بھی عار نہیں وہ ہم ؛ کہ عشق میں پاتے ہیں لطف یکتائی ہمارا دوست نہیں کوئی غمگسار نہیں وہ مزا ہے غم دلبر میں؛ کہ میں کہتا ہوں رنج فرقت کوئی دن اور اُٹھائوں تو کہوں وہ خفا ہیں؛ کہ پہلا پوچھے چلا آیا کیوں یاں یہ ہے فکر؛ کوئی بات بنائوں تو کہوں وہ کہیں ہم ؛ کہ گداگر کو سلیماں کردیں وہ کریں کام؛ کہ شیطاں کو مسلماں کردیں وہ کریں دم؛ کہ مسیحا کو بھی حیرت ہو جائے شیر قالیس کو بھی ہم شیرنیستاں کردیں وہ جو رہتا ہے ہر اک وقت میری آنکھوں میں ہائے گم بختی! مجھے اس کا پتہ یاد نہیں نکات معرفت بتلائے کون جام وصلِ دیر با پلوائے کون۔گل رعنا ہی جب مُرجھا گیا پھر بہار جانفزا دکھلائے کون وہ ہے مجھ میں نہاں؛ غیروں سے پردہ ہے اسے لازم تبھی تو چشم بد بیناں سے میں مستور رہتا ہوں وہی ہے طرز دلداری وہی رنگِ ستم گاری ستجتس کیوں کروں اس کا؛ کہ ہے یہ کون محمل میں ۴۵ وہ دل سے مانتے ہیں اُس کی خوبی وہ پاتے ہیں اسی میں دل کی تسکیں ۴۶ وہ بوجھ اُٹھا نہ سکے جس کو آسمان وزمیں اُسے اُٹھانے کو آیا ہوں؟ کیا عجیب ہوں میں وہ ہے خوش اموال پر؛ یہ طالب دیدار ہے بادشاہوں سے بھی افضل ہے؛ گدائے قادیاں واسطہ جہل سے پڑا؛ وہم ہوا رفیق دہر علم کدھر کو چل دیا جاتا رہا بیان کیوں کیا عاشق بھی معشوق کا شکوہ؛ ۴۱ ۴۲ ۴۳ ۴۴ ۴۷ ۴۸ ۴۹ وہ وہ وہ میرے ول ذمر نگلیوں میں مل مل کر یوں فرماتے ہیں اپنی زباں لاتے پر ہیں