بیت بازی — Page 631
631 ۱۰ ۱۱ ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ دیں کی نصرت کے لئے ؛ اک آسماں پر شور ہے اب گیا وقت خزاں ؛ آئے ہیں پھل لانے کے دن دن چڑھا ہے دشمنانِ دیں کا؛ ہم پر رات ہے اے مرے سورج ! دیکھا اس دیں کے چمکانے کے دن دل گھٹا جاتا ہے ہر دم؛ جان بھی ہے زیروز بر اک نظر فرما؛ کہ جلد آئیں تیرے آنے کے دن دوستو! اس یار نے دیں کی مصیبت دیکھ لی آئیں گے اس باغ کے اب جلد لہرانے کے دن دن بہت ہیں سخت ؛ اور خوف وخطر در پیش ہے پر یہی ہیں دوستو! اس یار کے پانے کے دن دیا اُس کو گرتار نے وہ گیان کہ ویدوں میں اُس کا نہیں کچھ نشاں پر در عدن دل پژمردہ میں باقی نہ رہی زندہ دلی اب میں وہ شوخی تحریر کہاں سے لاؤں؟ دیکھنے نہ پائے جی بھر کر کہ رخصت ہو گیا مشعل ایماں جلا کر نور دور آخریں دونوں ہاتھوں سے لٹائے گا خزانے کون اب؟ تشنہ روحیں رکس سے لیں گی آب فیضانِ معیں دنیا سے الگ دنیا کے مکیں؛ ملتے ہیں مگر گھلتے یہ نہیں دنیا تو ان کی ہوتی ہے؛ یہ آپ خدا کے ہوتے ہیں درد میں ڈوبی ہوئی تقریر سُن سُن کر جسے لوگ روتے تھے؛ ملائک کہہ رہے تھے آفریں دشمنوں کے وار؛ چھاتی پر لئے مردانہ وار پشت پر ڈستے رہے ہر وقت مار آستیں کلام طاهر دل جلے جاتا ہے؛ جیسے کسی راہب کا چراغ ٹمٹاتا ہو کہیں دور بیابانوں میں دل کو اک شرف عطا کر کے چلے جاتے ہیں اجنبی غم میرے محسن مرا کیا لیتے ہیں کلام محمود دانہ تسبیح اور اشکوں کا مطلب ہے اگر آب و دانہ کیلئے؛ سب پارسائی چھوڑ دوں ۱۷ دوستو! ہرگز نہیں؛ یہ ناچ اور گانے کے دن مشرق و مغرب میں ہیں یہ ؛ دیں کے پھیلانے کے دن دین احمد پر اگر آیا زمانہ شعف کا آچکے تب تو مسیح وقت کے آنے کے دن دوستو! اب بھی کرو تو بہ؛ اگر کچھ عقل ہے ورنہ خود سمجھائے گا وہ یار؛ سمجھانے کے دن در دود کھ سے آگئی تھی تنگ ؛ اے محمود! قوم اب مگر جاتے رہے ہیں؛ رنج وغم کھانے کے دن ۱۸