بیت بازی — Page 632
632 ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۰ ۳۲ E } } } ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ ام ۴۲ دل وجگر کے پرخچے اڑے ہوئے ہیں یاں اگر چہ دیکھنے میں اپنا حال زار نہیں دل اور جگر میں گھاؤ ہوئے جاتے ہیں؟ کہ جب چاروں طرف فساد پڑے دیکھتا ہوں میں دل میرا ٹکڑے ٹکڑے ہوا ہے؛ خُدا گواہ غم دُور کرنے کیلئے؛ گو ہنس رہا ہوں میں دل نہیں ہے؛ یہ تو لعلِ دَمَنِ افعی ہے دل کو اس زُلفِ سیہ سے جو چھڑائوں تو کہوں دل میں آتا ہے؛ کہ دل بیچ دیں دلدار کے ہاتھ اور پھر جان کو ہم ہدیہ جاناں کردیں درد دل سوز جگر اشک رواں تھے مرے دوست یار سے مل کے کوئی بھی تو رہا یاد نہیں دل پھٹا جاتا ہے؛ مثل ماہی بے آب کیوں ہو رہا ہوں کس کے پیچھے اس قدر بے تاب کیوں دل ہی تھا؛ سو وہ بھی تجھ کو دے دیا اب میں اُمیدوں کو دفناؤں کہاں دعوی طاعت بھی ہوگا؟ ادعائے پیار بھی تم نہ دیکھو گے کہیں؛ لیکن وفائے قادیاں دشمن آدم کے؛ جو نادان ہوئے جاتے ہیں ہائے! انسان سے شیطان ہوئے جاتے ہیں دل کے بہہ جانے کی نالے بھی خبر دیتے ہیں شاہد اس بات یہ نوک مردہ کر ہی نہیں دل سے ہے وسعت ترحيب محبت مفقود ساقی استادہ ہے؛ مینا لیے سائر ہی نہیں دل مایوس سینہ میں؛ اندھیرا چاروں جانب میں نہ آنکھیں ہیں کہ رہ پائیں نہ پر ہیں جن سے اُڑ جائیں درد آشنائی غم ہجراں میں؟ میں کہاں فرقت نصیب مادر و فاقد کہاں دیکھو! کہ دل نے ڈالی ہے جاکر کہاں کمند گودا تو ہے یہ بحر محبت میں؛ پر کہاں ڈوری کو اپنی دیکھ کے؛ میں شرمسار ہوں عاشق تو ہوں؛ یہ حرص و ہوا کا شکار ہوں دل دے چکے، تو ختم ہوا قصہ حساب معشوق سے حساب کا دستور ہی نہیں دشمن کی چیرہ دستیوں پر؛ اے خُدا گواہ ہیں زخم دل بھی سینے کے ناسور ہی نہیں دے ہم کو یہ توفیق؛ کہ ہم جان لڑا کے اسلام کے سر پر سے کریں دُور بلائیں دکھائے جو ہر دم؛ ترا حسن مجھ کو مری جاں! میں وہ آئنہ چاہتا ہوں دوزخ میں جلنا سخت برا؛ پر یہ بھی کوئی بات نہ تھی سو عیب کا اس میں عیب ہے؛ یہ گفتار نہیں ، دیدار نہیں دل میں بیٹھے؛ کہ سمائے مری آنکھوں میں تو میری تعظیم ہے اس میں؛ تیری تحقیر نہیں پدر