بیت بازی — Page 518
518 در ثمین ہر اک کہتا تھا دیکھ کر اک نظر کہ ہے اُس کی آنکھوں میں کچھ جلوہ گر ہو شکر تیرا کیونکر؛ اے میرے بندہ پرور تو نے مجھے دیئے ہیں یہ تین تیرے چاکر ہوا اک خواب میں یہ مجھ اظہر کہ اس کو بھی ملے گا بخت برتر ۴ Y ۷ ۸ ۹ 1۔11 ۱۲ ہے ہوتا ہے دستگیر ہوا آخر وہی ؛ جو تیری تقدیر بھلا چلتی ہے تیرے آگے تدبیر! بلندی شان ایزد گر بشر ہووے بلند فخر کی کچھ جا نہیں؛ وہ ہے متاع مستعار ہردم نشان تازہ کا محتاج ہے بشر قصوں کے معجزات کا ہوتا ہے کب اثر کردگار اسی ره کیا جانے قدر اس کا جو قصوں میں ہے اسیر ہوگئے بے کار سب حیلے جب آئی وہ بلا ساری تدبیروں کا خاکہ اُڑ گیا مثل غبار ہاتھ میں تیرے ہے ہر خسران ونفع عسر ویسر تو ہی کرتا ہے کسی کو بے نوا یا بختیار ہائے! میری قوم نے تکذیب کر کے کیا لیا زلزلوں سے ہو گئے صدہا مسارکن مثل غار ہے سر رہ پر مرے وہ خود کھڑا مولیٰ کریم پس نہ بیٹھو میری رہ میں؛ اے شریران دیار ہم تو ہر دم چڑھ رہے ہیں اک بلندی کی طرف وہ بلاتے ہیں؛ کہ ہوجائیں نہاں ہم زیر غار ہائے! مار آستیں وہ بن گئے دیں کیلئے وہ تو فربہ ہوگئے پر دیں ہوا زار ونزار ۱۴ ہم جگہ میں ان کی دجال اور بے ایماں ہوئے آتشِ تکفیر کے اُڑتے رہے پیہم شرار ہے کوئی کاذب جہاں میں؛ لاؤ لوگو! کچھ نظیر میرے جیسی جس کی تائیدیں ہوئی ہوں بار بار ہر قدم میں میرے مولیٰ نے دئے مجھ کو نشاں ہر عد و پر حجت حق کی پڑی ہے ذوالفقار ہے یہ گھر گرنے پہ؛ اے مغرور لے جلدی خبر تا نہ دب جائیں ترے اہل وعیال ورشتہ دار ہوش میں آتے نہیں ؛ سوسو طرح کوشش ہوئی ایسے کچھ سوئے ؛ کہ پھر ہوتے نہیں ہیں ہوشیار ہے غضب کہتے ہیں اب وحی خدا مفقود ہے اب قیامت تک ہے اس اُمت کا قصوں پر مدار خدادانی کا آلہ بھی یہی اسلام میں محض قصوں سے نہ ہو کوئی بشر طوفاں سے پار ہے یہی وحی خدا عرفان مولی کا نشاں جس کو یہ کامل ملے؛ اُس کو ملے وہ دوستدار ۱۳ ۱۵ ۱۶ 12 IA ۱۹ ۲۰ ۲۱ ہے