بیت بازی

by Other Authors

Page 489 of 871

بیت بازی — Page 489

489 ۱۵ ۱۶ ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۰ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ دعوت ہر ہرزہ گو کچھ خدمت آساں نہیں ہر قدم میں کوہ ماراں؛ ہرگزر میں دشت خار دشمن غافل اگر دیکھے وہ بازو وہ سلاح ہوش ہو جائیں خطا؛ اور بھول جائے سب نقار دیکھ کر لوگوں کے کینے دل مرا خوں ہو گیا قصد کرتے ہیں؛ کہ ہو پامال در شا ہوار دشمنو! ہم اس کی رہ میں مر رہے ہیں ہر گھڑی کیا کرو گے تم ہماری نیستی کا انتظار دن بُرے آئے؛ اکٹھے ہوگئے قحط و و با اب تلک توبہ نہیں؛ اب دیکھئے انجام کار دل جو خالی ہو گداز عشق سے؛ وہ دل ہے کیا دل وہ ہے؛ جس کو نہیں بے دلبر یکتا قرار دیں کو دے کر ہاتھ سے دنیا بھی آخر جاتی ہے کوئی آسودہ نہیں پن عاشق و شیدائے یار دارغ لعنت ہے؛ طلب کرنا زمیں کا عز و جاہ جس کا جی چاہے؛ کرے اس داغ سے وہ تن فگار دیکھتا ہوں اپنے دل کو عرشِ رب العالمیں تقرب اتنا بڑھ گیا؛ جس سے ہے اترا مجھ میں یار دیکھ لو! وہ ساری باتیں کیسی پوری ہوگئیں جن کا ہونا تھا بعید از عقل وفہم و افتکار دیکھ کر لوگوں کا جوش و غیظ مت کچھ غم کرو شدت گرمی کا ہے محتاج بارانِ بہار دوش پر میرے وہ چادر ہے؛ کہ دی اس یار نے پھر اگر قدرت ہے؛ اے منکر! تو یہ چادر اتار دل نکل جاتا ہے قابو سے؛ یہ مشکل سوچ کر اے میری جاں کی پناہ! فوج ملائک کو اتار دوسرے منگل کے دن آیا تھا ایسا زلزلہ جس سے اک محشر کا عالم تھا بصد شور وپکار دب گئے نیچے پہاڑوں کے کئی دیہات و شہر مر گئے لاکھوں بشر؛ اور ہوگئے دنیا سے پار دیکھتے ہرگز نہیں قدرت کو اس ستار کی گو سناویں ان کو؛ وہ اپنی بجاتے ہیں ستار دھو دیے دل سے وہ سارے صحبت دیریں کے رنگ پھول بن کر ایک مدت تک ہوئے آخر کو خار دین و تقویٰ گم ہوا جاتا ہے؛ یارب! رحم کر بے بسی سے ہم پڑے ہیں؛ کیا کریں، کیا اختیار دعا کی تھی اُس نے؛ کہ اے کردگار! بتا مجھ کو رہ اپنی؛ خود کر کے پیار دیں تو اک ناچیز ہے؛ دنیا ہے، جو کچھ چیز ہے آنکھ میں ان کی؛ جو رکھتے ہیں زروع ووقار ۲۹ ۳۰ ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ کلام محمود ۳۵ دل کعبہ کو چلا میرا بُت خانہ چھوڑ کر زمزم کی ہے تلاش اسے؛ میخانہ چھوڑ کر