بیت بازی — Page 473
473 ۱۵۰ ۱۵۲ ۱۵۳ ۱۵۴ ۱۵۵ ۱۵۶ ۱۵۸ ۱۵۹ ۱۶۰ ایک گالا روئی کا لائی تھی اپنے ساتھ وہ اور یوسف کی خریداری کی تھی اُمیدوار ۱۵۱ آرزو ہے گر فلاح و کامیابی کی تمھیں اس شیر خوباں پہ کردو؛ بے تامل جاں نثار اپنی مرضی چھوڑ دو، تم اس کی مرضی کیلئے جو ارادہ وہ کرے؛ تم بھی کرو وہ اختیار اُس کے ماموروں کو رکھو ، تم دل و جاں سے عزیز اُس کے نبیوں کے رہو تم ؛ چا گر و خدمت گزار اُس کے حکموں کو نہ ٹالو؛ ایک دم کے واسطے مال و دولت، جان و دل ؛ ہر شے کرو اُس پر نثار ابتداء میں لوگ گو پاگل پکاریں گے تمھیں اور ہوں گے دریئے ایذا دہی دیوانہ وار اُس کی اُلفت میں کبھی نقصاں اُٹھاؤ گے نہ تم اُس کی اُلفت میں کبھی ہوگے نہ تم رُسواوخوار ۱۵۷ امتحاں میں پورے اُترے گر ؛ تو پھر انعام میں جامِ وصلِ یار پینے کو ملیں گے بار بار الغرض یہ عشق مولی بھی عجب اک چیز ہے جو گداگر کو بنا دیتا ہے دم میں شہریار اُس کی ہر جنبش کب کرتی ہے مُردے زندہ حشر دکھلائے گا اب کیا ہمیں برپا ہوکر ایسے بیمار کا پھر اور ٹھکانا معلوم دے سکے تم نہ شیفا جس کو؛ مسیحا ہو کر اسی میں دیکھتے ہیں رُوئے دلبر ۱۶۲ اُس کے گسار بادہ اُلفت کی رُوح پر اُس بوستان عشق و وفا کی مزار پر اے شعاع نور! یوں ظاہر نہ کر میرے عیوب غیر ہیں چاروں طرف؛ ان میں مجھے رسوا نہ کر اُڑائیے گا نہ ہوش میرے غزالی آنکھیں دیکھا دیکھا کر چھری ہے چلتی دل و جگر پر ؛ نہ کیجئے باتیں چبا چبا کر ڈالی گئی آخر میں تلطف کی نظر مثل کافور اُڑا؛ دل میں جو تھا خوف و خطر ایسے اندھے کا کریں ہم کیا علاج مغز سے غافل ہے؛ چھلکے پر نظر ۱۶۷ اک گونه بیخودی مجھے دن رات چاہیے کیوں کر جیوں گا ہاتھ سے پیمانہ چھوڑ کر اصطبل میں گھوڑے ہیں بھینسیں بھی ہیں؛ کچھ شیر دار سبزے کی کثرت سے گھر بھی بن رہا ہے مرغزار آپ تو ہیں مالک ارض وسما؛ اے میری جاں! آپ کا خادم مگر پھرتا ہے کیوں یوں دربدر آدم اول سے لے کر وہ ہے زندہ آج تک ایسی طاقت دے؛ گچل ڈالوں میں آب شیطاں کائر اپنی تدبیر و تفکر سے نہ ہرگز کام لے راہ نما ہے تیرا کامل؛ راه أو محكم بگیر ۱۶۱ ۱۶۳ ۱۶۴ ۱۶۵ ۱۶۶ ۱۶۸ ۱۶۹ ۱۷۰ 121 اسی ان ہوتی ޏ ہے راحت مُيَّر