بیت بازی

by Other Authors

Page 472 of 871

بیت بازی — Page 472

472 ۱۲۹ اے وہ! کہ مجھ سے رکھتا ہے پرخاش کا خیال "اے آن که سوئے من بدویدى بَصَد تبر" ۱۳۰ اے وائے! وہ سر ؛ جن کی اُتاری گئی چادر پاکستہ پڈر اور پسر؛ جن کے برابر ۱۳ امی کی پہنچتی رہیں طوبی کو دعائیں ابا کی رہو جان؛ خدا حافظ و ناصر کلام محمود ۱۳۲ ۱۳۴ ۱۳۵ ۱۳۶ ۱۳۷ ۱۳۸ ۱۳۹ ۱۴۰ القصه ؛ آج سب مسلم خواتیں کی ہیں عریاں زیکیں تونے فرمایا تھا؛ ہے پردے سے باہر مَا ظهر ۱۳۳ آسماں کے راستوں سے ایک تو ہے باخبر ورنہ بھٹکے پھر رہے ہیں؛ آج سب کر ناؤ پیر اپنے پرائے چھوڑ کے سب ہو گئے الگ ہم بے کسوں پر آخر انہوں نے ہی کی نظر انگریزوں نے ہی؛ بے گس و بد حال دیکھ کر کھولے ہیں علم وفضل کے ہم پر ہزار در سلطنت بڑی مہربان ہے آتی نہیں جہان میں ایسی کوئی نظر اور اس سے بڑھ کے؛ رحم خدا کا یہ ہم پہ ہے عیسی مسیح سا ہے دیا؛ ہم کو راہبر اے میرے مولیٰ میرے مالک امری جاں کی سیر مبتلائے رنج و غم ہوں؛ جلد لے میری خبر امن کی کوئی نہیں جا؛ خوف دامن گیر ہے سانپ کی مانند مجھ کو کاٹتے ہیں بحر و بر ابر باراں کی طرح آنکھیں ہیں میری اشک بار ہے گریباں چاک گر میرا؛ تو دامن تارتار اپنے ہم چشموں کی آنکھوں میں سبگ کیوں ہو گیا دیدہ اغیار میں ٹھہرا ہوں کیوں بے اعتبار اک رُخ تاباں کی اُلفت میں پھنسا بیٹھا ہوں دِل اپنے دل سے اور جاں سے اس سے میں کرتا ہوں پیار اُس کا اک اک لفظ ؛ میرے واسطے ہے جانئزا اُس کے اک اک قول سے گھٹیا ہے دُرِ شاہوار ایک گن کہنے سے پیدا کر دیئے اس نے تمام یہ زمیں، یہ آسماں؛ یہ دورہ لیل و نہار ۱۴۵ اُس کی اُلفت نے بنایا ہے مکاں ہر نفس میں ہر دل دیندار؛ اس کے رُخ پہ ہوتا ہے بنار اب تو سمجھے کس کے پیچھے ہے مجھے یہ اضطرار یاد میں رکس ماہ رو کی؛ ہوں میں رہتا اشکبار اُس کی شاں کو عقل انسانی سمجھ سکتی نہیں ذرہ ذرہ پر ہے اُس کو مالکانہ اقتدار اس کی قدرت کی کوئی بھی انتہا پاتا نہیں اور پوشیدہ نہیں ہے؛ تم سے میرا حالِ زار اپنی مرضی کا ہے وہ مالک ؛ تو میں محکوم ہوں میری کیا طاقت ؛ کہ پاؤں زور سے درگاہ میں بار ۱۴۱ ۱۴۲ ۱۴۳ ۱۴۴ ۱۴۶ ۱۴۷ ۱۳۸ ۱۴۹