بیت بازی — Page 420
420 جو مر گئے انہی کے نصیبوں میں ہے حیات اس رہ میں زندگی نہیں ملتی بجز ممات ودر عدن جو عشق میں کامل تھے؛ ہوئے یار پہ قرباں تکمیل ہوئی بن گئے معیار محبت جو کود پڑا اس میں کھلا بھید یہ اس پر پوشیدہ ہے فردوس کی غار محبت کلام طاهر جانے کس فکر میں غلطاں ہے میرا کافر گر ادھر اک بار جو آ نکلے کہیں آج کی رات جن پہ گزری ہے؛ وہی جانتے ہیں غیروں کو کیسے بتلائیں ؛ کہ تھی کتنی حسیں آج کی رات کلام محمود جہاں پر کل تھے؛ وہیں آج تم نہ رُک رہنا قدم بڑھاؤ کہ ہے انتقال میں برکت جو چاہے خیر؛ تو کر استخارہ مَسنُون عبث تلاش نہ کر ؛ تیر و فال میں برکت 'چ' 'ت' 'چ' سے شروع ہو کر ات پر ختم ہونے والے اشعار ) تعداد کل اشعار کلام محمود کلام محمود 1 1 چڑھے تو نام نہ لے ڈوبنے کا پھر وہ کبھی کچھ ایسی ہو میرے یوم الوصال میں برکت