بیت بازی

by Other Authors

Page 368 of 871

بیت بازی — Page 368

368 کلام طاهر سازندہ تھا یہ اس کے سب ساجھی تھے میت اُس کے دھن اس کی تھی گیت اُس کے لب اس کے پیام اُس کا اس سادہ اور غریب تھی جنتا ، لیکن نیک نصیب تھی جنتا فیض رسان عجیب تھی جنتا؛ ہر بندہ، بندہ پرور تھا بچے لوگ تھے، کچی بستی ، گرموں والی اچھی بہتی جو اونچا تھا، نیچا بھی تھا، عرش نشیں تھا، خاک بسر تھا سہاگن سدا رہے بستی؛ جس سے نور کے سوتے پھوٹے؛ جس میں پیدا ہوئی وہ ہستی جو نوروں کا اک ساگر تھا ۱۱ ۱۲ ۱۴ ۱۵ ۱۶ کلام محمود سارے گندوں سے ہے پاک؛ اور ہے واحد یکتا نہ وہ تھکتا ہے، نہ سوتا ہے؛ نہ کھاتا پیتا سختیوں سے، قوم کی گھبرا نہ ہرگز ، اے عزیز! کھا کے یہ پتھر ؛ تو لعلِ بے بہا ہو جائے گا سچ کہوں گا؛ کہ نہیں دیکھی یہ خوبی ان میں چہرہ يُوسُف و انداز زلیخا دیکھا ۱۷ سب شعر و شاعری کے خیالات اُڑ گئے سب لطف ؛ ایک بات میں ہی کر کرا ہوا ۱۸ سارا جہاں میرے لئے تاریک ہو گیا جو تھا مثال سایہ مجھ سے جُدا ہوا ۱۹ سچ سچ کہو! خُدا سے ذرا ڈر کے؛ دو جواب کیا تم کو انتظار نہ تھا؛ پاسبان کا سینہ سپر ہوا یہ مقابل میں کفر کے خطرہ نہ مال کا ہی کیا؛ اور نہ جان کا سالک تھا اسی فکر و غم و رنج میں ڈوبا ناگاہ اُسے ہاتف غیبی نے پکارا سر کو پاؤں پر دھروں گا ؛ آنکھیں تلووں سے ملوں گا نقشِ پا کو چوم لوں گا؛ میں تمھیں جانے نہ دوں گا کر بن گئی نیکی سویدا پہ چھا گئیں اس کی خطایا افق سبزہ اک عکس زُلفِ جاناں ہے تصور ہی بال بال میں تھا سانس رکتے ہی اس کا؛ اے محمود! تیر اک دل کے آر پار گیا ۲۰ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ سمٹ ساری عرضوں کا پر ملا جواب ہم نے مانا؛ ترا قرار گیا ۲۷ سیر کروادے مجھے تو عالم لاہوت کی کھول دے تو باب مجھ پر؛ رُوح کے اسرار کا سوؤں تو تجھ کو دیکھ کر ؛ جاگوں تو تجھ پہ ہو نظر موت سے تھا کسے دریغ ؛ اس کا ہی انتظار تھا ۲۸