بیت بازی — Page 369
369 ۲۹ ۳۰ ۳۱ ۳۲ سوز دروں نے جوش جو مارا تو دیکھنا خود شمع بن گئے؟ مجھے پروانہ کر دیا سامنے آنے سے میرے؛ جس کو ہوتا تھا گریز دل میں میرے آچھپا؛ غیروں سے پنہاں ہو گیا ہیں لطف سب کام مرے تجھ پن؛ اے جاں! سے خالی؛ آ بھی جا سمجھتے ہو؟ کہ یہ سب کچھ ہمارے ساتھ کیوں ہوگا؟ یہ ظلم ناروا کس وجہ سے ہم پر روا ہوگا؟ ۳۳ سر کو سینہ پہ رکھ لیا میرے ۳۴ ۳۵ جب بھی میں اشکبار ہوا کلام حضرت خليفة المسيح الثالث سورج کی روشنی بھی مدھم ہو جس کے آگے ایسا ہی نور حاصل اس نور سے کروں گا سارے علوم کا ہاں منبع ہے ذات جس کی اس سے میں علم لے کر دنیا کو آگے دوں گا i === 'ش' سے 'الف' اش' سے شروع ہو کر ' الف 'پر ختم ہونے والے اشعار ) تعداد كُل اشعار در ثمين کلام محمود در ثمین 10 5 LO 5 شہادت تھی اسلام کی جابجا کہ سچا وہی دیں ہے؛ اور رہنما شور کیسا ہے ترے کوچہ میں؛ لے جلدی خبر خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا شكر لله مل گیا ہم کو وہ لعلِ بے بدل کیا ہوا گر قوم کا دل سنگ خارا ہوگیا کہ اُس کو تو نے خود فرقاں سکھایا شریف احمد کو بھی پھل کھلایا شاید تمہاری آنکھ ہی کر جائے کچھ خطا شاید وہ بد نہ ہو؛ جو تمہیں ہے وہ کلام محمود ه بد نما شکوہ کا کیا سوال ہے؛ اُن کا کتاب بھی ہے مہر منہ سے میں دادخواہ تھا؛ دل میں میں شرمسار تھا ۵