بیت بازی — Page 346
346 11 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۶ پھر پھر میرے بعد اوروں کی ہے انتظار کیا تو بہ کرو؛ کہ جینے کا ہے اعتبار کیا پھر جب کہ تم میں خود ہی وہ ایماں نہیں رہا وہ نور مومنانہ وہ عرفاں نہیں رہا وہ خدا؛ جو مردہ کی مانند ہے پڑا پس کیا امید ایسے سے؛ اور خوف اس سے کیا پچیس سال سے ہے وہ مشغول افترا ہردن، ہر ایک رات؛ یہی کام ہے رہا پھر بھی وہ ایسے شوخ کو دیتا نہیں سزا گویا نہیں ہے یاد؛ جو پہلے سے کہہ چکا پر وہ خدا؛ جو عاجز ومسکیں کا ہے خدا حاکم کے دل کو میری طرف اس نے کردیا پر اپنے بدعمل کی سزا کو وہ ساتھ اس کے یہ؛ کہ نام بھی کاذب رکھا گیا پیشگوئی کا جب انجام ہویدا ہوگا قدرت حق کا عجب ایک تماشا ہوگا پا گیا در عدن ہے تیرے دامنِ رحمت کا سہارا پروا نہیں؛ باقی نہ ہو بے شک کوئی چارا کافی پر خدا سے ڈرنے والے کب ڈرے اغیار سے بڑھ کے کب آگے قدم پیچھے ہٹا اخیار کا ۱۵ پھر نئی صورت میں ظاہر جلوہ جاناں ہوا نور پھر اترا جہاں میں مبدء الانوار کا پھینک کر شمشیر و خنجر آج دنیا کو دکھا جذب صادق رعب ایماں عاشقانِ زار کا پھر دکھادے مجھے مولا! میرا شاداں ہونا صحن خانہ کا میرے رشک گلستاں ہونا ۱۸ ۱۹ ۲۱ ۲۲ پھلے اور پھولے گلشن تمہارا بھرے موتیوں سے کلام طاهر دامن تمہارا پیکر ضبط تھا وہ صبر کا شہزادہ تھا اس کے گرویدہ تھے سب؛ ہر کوئی دلدادہ تھا پیار میں جس کے عمر بیت گئی کیا فقط ایک دم دلاسہ تھا؟ جانے دل کس بلا کا پیاسا تھا پیاس بجھ نہ سکی کسی کے پھر دیگچی اٹھا کے؛ وہ تیزی سے چل پڑا حلوہ کی طرح منہ سے بھی پانی اُبل پڑا کلام محمود ۲۳ پر کوئی موقع لڑائی کا جو آجاتا تھا ہر کوئی صاف وہاں آنکھیں چرا جاتا تھا