بیت بازی — Page 327
327 یوں الگ گوشتہ ویراں میں جو چھوڑا ہم کو نہیں معلوم؛ کہ کیا قوم نے سمجھا ہم کو یہ چھپ کے کیوں چنگیاں ہے لیتا؟ جو شوق ہو دل کو چھیڑنے کا تو شوق کر ملا ملا کر تجھے بھلا کس کا ڈر پڑا ہے یہی ہے دن رات میری خواہش؛ مٹاؤں پھر بیقراری گلے ނ اُس کو لگا لگا کر ول؛ 122 127 ۱۷۹ ۱۸۰ ۱۸۲ کہ کاش مل جائے وہ پری رو یاس و نومیدی نے گھیرا ہے مجھے اس کے پنجہ سے مجھے چھڑوائے کون ۱۸۱ یہیں سے اگلا جہاں بھی دیکھا دیا مجھ کو ہے ساغر مئے اُلفت پلا دیا مجھ کو یہ دونوں میری حقیقت سے دُور ہیں محمود خُدا نے جو تھا بنانا بنا دیا مجھ کو یہ صدمہ ہائے جُدائی ؛ اُٹھائے جائیں گے کب دل اور جان مرے؛ ان کی تاب لائیں گے کب یہ میں نے مانا؛ کہ ہے اُن کی ذات بے پایاں مگر وہ چہرہ زیبا مجھے دکھائیں گے کب ہے دنیا میں کرتا رہنمائی یہ عظمی میں کرے گا شاد و فرحاں ۱۸۳ ۱۸۴ ۱۸۵ ۱۸۶ 1^2 یہی ہر کامیابی کا ہے باعث نہ نعمت ہم کو بے خدمت ملی ہے یہی کرتا سکھایا ۱۸۸ یہی اک پاک دل کی آرزو یہی ۱۸۹ ۱۹۰ ۱۹۱ ۱۹۲ ہے جامع کیوں نہ ہو سب خوبیوں کا ہے ہے ہے ہر مشکل کو آساں ہمیں مولیٰ نے قرآں ہر منگنی کا مد عا ہے ہے محبت کو شفا ہے کہ اس کا بھیجنے والا خُدا تسکیں ده عشاق مُضطر مریضان یہ ہے بے عیب؛ ہر نقص و کمی یہ ہوں میری دعائیں ساری مقبول ملے عزت ہمیں دونوں جہاں میں یہ چمن، یہ باغ ، یہ بستاں، یہ گل، یہ پھول؛ سب کرتے ہیں اُس ماہ رُو کی قدرتوں کو آشکار ۱۹۴ یقین سی نہیں نعمت کوئی زمانے میں نہ شک میں خیر ہے؟ ئے احتمال میں برکت سے کرے جو حرف گیری؛ بے حیا ہے ۱۹۳ ۱۹۵ یقین دلاتے تیری اُلفت رہے ہیں دنیا کو ؛ کا جو آج تو نے نہ کی رفاقت؟ مدتوں کسی کو کیا منہ دکھائیں گے ہم ނ