بیت بازی

by Other Authors

Page 326 of 871

بیت بازی — Page 326

326 یہ دو آنکھیں ہیں شعلہ زا؛ یا جلتے ہیں پروانے دو یہ اشک ندامت پھوٹ پڑے؛ یا ٹوٹ گئے پیمانے دو یہ نہ ہو روتے ہی رہ جائیں ترے در کے فقیر اور ہنس ہنس کے روانہ ہوں؛ رُلانے والے یہ ترے کام ہیں مولا! مجھے دے صبر وثبات ہے وہی راہ کٹھن؛ بوجھ بھی بھارے ہیں وہی یہ پُر اسرار دھندلکوں میں سمویا ہوا غم چھا گیا روح پہ؛ اک جذبہ مہم بن کر إحساس الم دیده شب سے ڈھلکنے لگا؛ شبنم بن کر یہ فضاؤں میں سسکتا ہوا؛ احساس یا تیرے دھیان کی جوگن ہمہ رنج و آزار خود چلی آئی ہے پہلو میں بجائے غم وحزن ہے دو گھڑی قلب کے غم خانے میں ستائے گا بھی شاید کوئی بھٹکا ہوا راہی غم یہ تو میرے دل ہی کا عکس ہے؛ کو جنون ہے مجھے بنا دے؛ تو پھر جو چاہے قضا کرے میں نہیں ہوں، پر مری آرزو یوں ہی چھپ چھپ کے ملا کرتے پس پردہ دل دل ہی دل میں کسے معلوم؛ کہ کیا کیا ہوتا یوں ہی بڑھتی چلی جاتی رہ و رسمِ الفت ہم نے جی کھول کے اک دوجے کو چاہا ہوتا ادا، دل کو لبھاتی؛ تو ستاتی بھی بہت سوچتا تم نہ میرے ہوتے؟ تو پھر کیا ہوتا یاد میں کس کی وہ آفاق پہ بہتا ہوا حسن نت نئی دنیا؛ نئے دیس میں ڈھلتا ہوتا کلام محمود یہ کیسی ہے تقدیر؛ جو مٹتے نہیں ملتی پتھر کی ہے تحریر؛ جو مٹتے نہیں ملتی یا غیر بھی آ کر مری کرتے تھے خوشامد یا اپنوں نے بھی ذہن سے اپنے ہے اتارا روتا فلک بھی سورج کا جگر بھی ہے غم و رنج سے پارا یا میری ہنسی بھی تھی عبادت میں ہی داخل یا ذهد وتعبد میں بھی پاتا ہوں خسارا یا آج میرے حال ہے یہی رات دن؛ اب تو میری صدا ہے میرا خدا ہے؛ یہ میرا خدا ہے یہ شرارت، سب دھری رہ جائے گی ؟ جب وہ خُدا ہوش میں لائے گا تم کو ہوش میں لانے کے دن ؛ یاں تو اسلام کی قوموں کا ہے یہ حال ضعیف اور واں کفر کا لہراتا ہے اونچا پرچم یہ ہے دوسری بات مانو، نہ مانو مگر حق تو یہ ہے کہ وہ آگیا ہے ۱۵۷ ۱۵۸ ۱۵۹ 170 171 ۱۶۲ ۱۶۳ ۱۶۴ ۱۶۵ ۱۶۶ ۱۶۷ ۱۶۸ ۱۶۹ ۱۷۰ 121 ۱۷۲ ۱۷۳ ۱۷۴ ۱۷۵ ۱۷۶