بیت بازی — Page 328
328 ۱۹۶ ۱۹۷ ۱۹۹ ۲۰۰ یاد رکھ لیک کہ غلبہ نہ ملے گا؟ جب تک دل میں ایمان نہ ہو؛ ہاتھ میں قرآن نہ ہو یونہی بے فائدہ سر مارتے ہیں وید و طبیب اُن کے ہاتھوں سے جو اچھا ہو؛ وہ آزار بھی ہو ۱۹۸ یا تو ہم پھرتے تھے ان میں؟ یا ہوا یہ انقلاب پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے؛ کوچہ ہائے قادیاں 199 یا گند چھری ہاتھ میں دیتا تھا نہ کوئی یا زخموں سے آب جسم میرا چور ہے سارا یا زانوئے دلدار مرا تکیہ تھا؟ یا آب سر رکھنے کو ملتا نہیں پتھر کا سہارا یہ بے رخی ہے کس سبب سے ہمیں وہی ہوں جو کہ تھا میرے گنہ وہی تو ہیں؛ میری خطا وہی تو ہے یارانِ وطن! یہ خواب جنت کس کام دوزخ میں پہنچ چکے ہو؛ سوتے سوتے آرزو اس کی الہی یہی ہے التجا اس کی خُدایا ہے سارے ختم قرآں کرچکے ہیں دلوں کو نورحق سے بھر چکے ہیں ۲۰۱ ۲۰۲ ۲۰۳ ۲۰۴ ۲۰۵ ۲۰۶ ۲۰۷ ۲۰۸ ۲۰۹ ۲۱۰ ۲۱۱ ۲۱۲ ۲۱۳ ۲۱۴ ۲۱۵ ۲۱۶ ۲۱۷ یہی تہ نعمت سارے انعاموں کی جاں ہے جو سچ پوچھو، یہی باغ جناں ہے یہی ہے دین و دنیا کی بھلائی اسی نہ ޏ دور رہتی ہے برائی یہی لے جاتی ہے مولیٰ کے در تک یہی پہنچاتی ہے مومن کو گھر تک یہ میدانِ وغا میں جب کبھی آئیں تو دل أعداء کے سینوں میں دہل جائیں قصر احمدی کے پاسباں ہوں یہ ہر میداں کے یارب! پہلواں ہوں یہ عشق و وفا کے کھیت کبھی ؛ خوں سینچے بغیر نہ پہنیں گے اس راہ میں جاں کی کیا پرو جاتی ہے اگر، تو جانے دو یارب! تیری مدد ہو؟ تو اصلاح خلق ہو اُٹھنے کا ورنہ مجھ سے یہ بارگراں نہیں یہ جسم مرا سر سے پا تک جو مُعَطَّر ہے راز اس میں ہے یہ زاہد ؛ وہ خواب میں آئے تھے یا میرے پہلو میں آکر بیٹھ جا؟ پھر بیٹھ جا یار میری خواہش مٹا دے؛ ہاں مٹا دے آج تو یا محمد دلبرم از عاشقانِ رُوئے شست مجھ کو بھی اُس سے ملا دے؛ ہاں ملا دے آج تو یوں اندھیری رات میں اے چاند! تو چپکا نہ کر حشر اک سیمیں بدن کی یاد میں برپا نہ کر یا بزمِ طرب کے خواب نہ تو دکھلا اپنے دیوانے کو یا جام کو حرکت دے لیلی ! اور چکر دے پیمانے کو یہ میری حیات کی الجھن تو ہر روز ہی بڑھتی جاتی ہے وہ نازک ہاتھ ہی چاہیئے ہیں اس گتھی سے سلجھانے کو