بیت بازی — Page 308
308 ہوا آخر نکل جاتی ہے آزار محبت کی چھپاؤ لاکھ تم اس کو؛ وہ پنہاں ہو نہیں سکتا ہر اک دم اپنی قدرت کے انہیں جلوے دیکھاتا ہے جو اس کے ہور ہیں؛ پھر ان سے پنہاں ہو نہیں سکتا ہزاروں حسرتوں کا روز دل میں خُون ہوتا ہے کبھی یہ گنج شھیداں ہو نہیں سکتا ویران ہوں اتنا منفعل اس سے؛ کہ بولا تک نہیں جاتا میں اس سے مغفرت کا بھی تو خواہاں ہو نہیں سکتا ہلتے دیکھا جو کبھی تیرا ہلال ابرو پارہ ہائے جگر شمس کو اُڑتا دیکھا ہر اک نے ساتھ چھوڑ دیا ایسے حال میں مجھے تھے باوفا جسے؛ وہ بے وفا ہوا ۲۴۳ ۲۴۴ ۲۴۵ ۲۴۶ ۲۴۷ ۲۴۸ ۲۴۹ ۲۵۰ ۲۵۱ ۲۵۲ ۲۵۳ ۲۵۴ ہاں! پھر یلان فوج لعیں کو پچھاڑ رو میدان کارزار میں پھر گرمیاں کرو نہ ہاں! پھر اُسی کم سے تعلق بڑھاؤ تم پھر کاروان دل کو اُدھر ہی رواں کرو ہاں ہاں! اُسی حبیب سے پھر دل لگاؤ تم پھر منعمین لوگوں کے انعام پاؤ تم ہے مارا اک کو کلا کلا کر جگر کے ٹکڑے کئے ہیں کس نے؟ تو دوسرے کو ہنسا ہنسا کر دل کی حالت دکھا دکھا کر ہیں چاندنی راتیں لاکھوں گذریں؛ وہ عہد جو مجھ سے کر چکا ہے؛ کھیلی نہ دل کی گلی کبھی بھی کبھی تو اے بے وفا! وفا کر ہزار کوشش کرے کوئی پر ؛ وہ مجھ سے عہدہ برآ نہ ہو گا جسے ہو کچھ زعم آزمالے؛ ہوں کہتا ڈنکا بجا بجا کر ۲۵۵ ہائے! وہ دل؛ کہ جسے طر ز وفا یاد نہیں وائے! وہ رُوح؛ جسے قول ملی یاد نہیں ہائے! بد بختی قسمت؛ کہ لگا ہے مجھ کو مرض جس کی مسیحا کو دوا یاد نہیں ہم وہ ہیں پیار کا بدلہ جنھیں ملتا ہے پیار بھولے ہیں روز جزا اور جزا یاد نہیں ہزاروں دامنوں پر خون کے دھتے چمکتے ہیں میرے آنے پہ کیا ہولی ہوئی ہے گوئے قاتل میں ۲۵۹ ہمارے گھر میں اس نے بھر دیا نور راک ظلمت کو ہم سے کر دیا دُور ۶۰ ہماری فتح و نصرت دیکھ کر وہ غم و رنج و مصیبت سے ہوئے پچور ۲۵۶ ۲۵۷ ۲۵۸ ۲۶۱ ۲۶۲ ہماری رات بھی ہے وہ ہر نورافشاں ہماری صبح خوش ہے؛ شام مسرور ہزاروں ہیں؛ کہ ہیں محروم اس سے نظر سے جن کی ہے وہ نور پنہاں