بیت بازی

by Other Authors

Page 307 of 871

بیت بازی — Page 307

307 ۲۲۱ ۲۲۲ ۲۲۳ ۲۲۴ ۲۲۵ ۲۲۶ ۲۲۷ ۲۲۸ ۲۲۹ ۲۳۰ ۲۳۱ ۲۳۲ ۲۳۳ ۲۳۴ ۲۳۵ ۲۳۶ ۲۳۷ ہم بھولے پھر رہے تھے کہیں کے کہیں مگر جو راہِ راست تھا؛ ہمیں اس نے بتا دیا ہم کیوں کریں نہ اس پہ فدا جان و و آبرو روشن کیا ہے دین کا جس نے بجھا ایسی شان قیصر ہندوستان کی ہے دشمن اُس کی تجریڑاں سے کانپتا ہے دیا ہندوستاں میں ایسا کیا ہے اُنہوں نے عدل ہر شورہ پشت جس سے ہوا نیم جان ہے ہندوستاں میں چاروں طرف ریل جاری کی ان کا ہی کام ہے یہ؛ یہ اُن کی ہی شان ہے ہندوستاں سے اُٹھ گیا تھا علم اور ہنر یاں آتا تھا نہ عالم و فاضل کوئی نظر ہے تیاری سفر کی کارواں میں میرا دل ہے ابھی خواب گراں میں ہراک عارف کے دل پہ ہے وہ ظاہر خُدا مخفی نہیں ہراک رنج و بلا سے ہم ہیں محفوظ مُصیبت پڑ رہی ہے ہے آسماں میں جہاں میں ہر اک جا نور سے تیرے منور تیرا ہی جلوہ ہے کون و مکاں میں ہے اک مخلوق رب ذوالمین کی بھلا طاقت ہی کیا ہے آسماں میں ہے خوف مجھ کو بہت اس کی طبع نازک سے نہیں ہے یہ کہ مجھے آرزوئے یار نہیں ہوا وہ پاک؛ جو قدوس کا ہوا شیدا پلید ہے؛ جسے حاصل ہر اک دشمن بھی اب رطب اللساں ہے میرے احمد کی ہمارے حال ہنستی گو قوم ہمیں پر اُس ہے وہ نہ افتخار نہیں شیریں زباں ہے رونا آ رہا ہے ہوئے ہیں لوگ دشمن امر حق کے اسی کا نام کیا صدق و ہمارے انبیاء کو گالیاں رو صفا ہے پھر اس کے ساتھ دعوی صلح کا ہے ۲۳۸ ہماری صلح تم ہوگی کیونکر تمھارے دل میں جب یہ کچھ بھرا ہے ۲۳۹ ۲۴۰ ۲۴۱ ۲۴۲ وہ شاہنشہ ہر دوسرا ہے ہو اُس کے نام پر قربان سب کچھ ہیں در مالک پر بیٹھے ہم لگائے لگائے ٹکٹکی ہاں کبھی تو اپنا نالہ بھی رسا ہو جائے گا ہوگئی ہیں انتظار یار میں آنکھیں سپید اک بُت سیمیں بدن کا طالب دیدار ہوں ہاتھ جوڑوں، یا پڑوں پاؤں؛ بتاؤ کیا کروں دل میں بیٹھا ہے؛ مگر آتا نہیں مجھ کو نظر