بیت بازی

by Other Authors

Page 309 of 871

بیت بازی — Page 309

309 ۲۶۳ ۲۶۴ ۲۶۵ ہمیں حاصل ہے اس سے دید جاناں کہ قُرآن مظهر شان خُدا ہیں اس دنیا میں جتنے لوگ حق ہیں سچائی ہوئی جب ہفت ساله؛ تو خُدا نے ہے جنہیں کوئی نہیں کیں پہنایا اسے بھی تاج زریں ۲۶۲ ہوئے چھوٹے بڑے ہیں آج شاداں نظر آتا نہیں کوئی بھی غمگیں ۲۶۷ ނ ہمارے کام تیرے لیئے ہوں اطاعت ہو غرض ہر مدعا کی ہو ۲۶۸ ہمیں اپنے لیے مخصوص کر لے ہمارے دل میں آکر میہماں ۲۶۹ ۲۷۰ ۲۷۱ ۲۷۲ ہماری موت ہے؛ فُرقت میں تیری ہمارا حافظ و ناصر ہماری اے خُدا! کر دے ہمارا گھر ہمیشہ ہم پہ ہو تو جلوہ گناں ہو ہو ہر دم ہمارے باغ کا تو باغباں تقدیر کہ جس کو دیکھ کر حیراں ہو تدبیر وہ ہو مثل باغ جنت ہو آبادی ہمیشہ اس مکاں میں ۲۷۳ ہماری بات میں برکت ہو ایسی کہ ڈالے رُوح مُرده استخواں میں ۲۷۴ ۲۷۵ ۲۷۶ ۲۷۷ ۲۷۸ ۲۷۹ ۲۸۰ ۲۸۱ ۲۸۲ ۲۸۳ ۲۸۴ ہماری دے نسل کو یارب بڑھا ہمیں آباد کر کون و مکاں میں ہے بہار باغ و گل مثلِ خزاں افسردہ گن ہے جہاں میری نظر میں مثل طب تاریک و تار ہو گیا میری تمناؤں کا پودا خشک کیوں کیا بلا اس پر پڑی؛ جس سے ہوا بے برگ و بار ہرحسیں کو حسن بخشا ہے اُسی دلدار نے اُسی دلدار نے ہر گل و گلزار نے پائی اُسی سے ہے بہار ہر نگاہ فتنہ گر نے اُس سے پائی ہے چلا ورنہ ہوتی بخت عاشق کی طرح تاریک و تار ہائے! پر اُس کے مُقابل میں نہیں میں کوئی چیز وہ سراپانُور ہے؛ میں مضغہ تاریک و تار ہوں غلامی میں؛ مگر ہے عشق کا دعوئی مجھے چاکروں میں ہوں؛ مگر ہے خواہش قرب و جوار ہو کے بے پردہ؛ وہ میرے سامنے آئے نکل میرے دل سے دُور کر دے ہجر و فرقت کا غبار ہر رگ و ریشہ میں ہو اس کی محبت جاگزیں ہر کہیں آئے نظر نقشہ وہی منصوروار ہر دل میں پر ہے بغض و کیں ہر نفس شیطاں کا ر ہیں جو ہو فدائے ٹور دیں؛ کوئی نہیں، کوئی نہیں ہر ایک کے بے سر میں کہیں ؟ ہے کبر کا دیو لکھیں اک دم کو یاد آتی نہیں درگاہ رب العالمیں