بیت بازی

by Other Authors

Page 306 of 871

بیت بازی — Page 306

306 ۲۰۰ ۲۰۱ ۲۰۲ ۲۰۴ ۲۰۵ ۲۰۸ ۲۰۹ ۲۱۰ ۲۱۱ ہند کی ڈوبی ہوئی کشتی؛ ترائی اس نے ملک کی بگڑی ہوئی بات؛ بنائی اس نے ہے چاند سورج نے دی گواہی ؛ پڑی ہے طاعون کی تباہی ہو ایسے پھر خدا ہی؛ جو اب بھی انکار کر رہا ہے ہاں ہاں! نگاه رحم ذرا اس طرف بھی ہو بحر گنہ میں ڈوب رہا ہوں؛ بچا مجھے یہ سرشار الفتِ دیں میں مدام رکھ اسے کونین میں تو شاد کام ہے مری آخر میں يارب دعا سایہ رکھ اس پر تو اپنے فضل کا ہر اک دشمن کے شر سے تو بچانا اے خدا! ان کو ہمیشہ کیلئے رحمت کا تیری ان پر سایہ ہو ہر طرف شور و فغاں کی ہی صدا آتی تھی سخت سے سخت دلوں کو بھی جو تڑپاتی تھی ۲۷ ہائے! کثرت میرے گناہوں کی وائے کوتا ہی میری آہوں کی ہند میں ریل اُنھوں نے ہی تو جاری کی ہے آمد و رفت میں جس سے بہت آسانی ہے ہمیشہ کیلئے ان پر ہوں یارب! برکتیں تیری دُعا کرتا ہوں یہ مجھ سے خدایا! سُن دُعا میری ہائے! اُس شخص سے تو بغض و عداوت رکھے رات دن جس کو لگا رہتا ہے تیرا ہی غم ہمیں ہے اسی وقت ہادی کی حاجت یہی وقت اک رہنما چاہتا ہے ہر اک دشمن دیں ہے وہ بلاتا کہ آؤ! اگر تم میں کچھ بھی دیا ہے ہر اک مخالف کے زور طاقت کو توڑنے کا یہی ہے حربہ یہی ہے تلوار ؛ جس سے ہر ایک دیں کا بد خواہ کا نپتا ہے ہے بھاگتی دنیا؟ مجھے دیوانہ سمجھ کر ہے شمع قریب آرہی؛ پروانہ سمجھ کر ہے بہت افسوس ! اب بھی گر نہ ایماں لائیں لوگ جبکہ ہر ملک و وطن پر ہیں عذاب آنے کے دن ہر چار سو ہے شہرہ ہوا قادیان کا مسکن ہے جو کہ مہدی آخر زمان کا ہاں! جو نہ مانے احمد مرسل کی بات بھی کیا اعتبار ایسے شقی کی زبان کا ہر جنگ میں کفار کو ہے پیٹھ دکھائی تم لوگوں نے ہی نام ڈبویا ہے وفا کا خُدا کی ہی عنایت پہ بھروسہ ہم کو نہ عبادت کا؛ نہ ہے زُھد کا دعوی ہم کو ۲۲۰ ہو کر غلام احمد مرسل کے آئے ہیں قربان جن کے نام پہ ہوتے ہیں انس و جاں ۲۱۲ ۲۱۳ ۲۱۴ ۲۱۵ ۲۱۶ ۲۱۷ ۲۱۸ ۲۱۹ ہے کو