بیت بازی — Page 288
288 ۱۳۸ ۱۳۹ ۱۴۰ ۱۴۱ ۱۴۲ ۱۴۳ ۱۴۴ ۱۴۵ ۱۴۶ وہ یاد آئے؛ جن کے آنسو تھے غم کی خاموش گتھا میرے سامنے بیٹھ کے روئے دکھ نہ بتایا ساری رات وہ یاد آئے، جن کے آنسو پونچھنے والا کوئی نہ تھا سُوجے نین دکھائے اپنے ؛ اور رُلایا ساری رات وقت کم ہے، بہت ہیں کام چلو ملگجی ہو رہی ہے شام چلو وہ آنکھ اُٹھی تو مُردے جگا گئی لاکھوں قیامت ہوگی؛ کہ جو اس ادا سے اُٹھی ہے وہی جھرنوں کے مدھر گیت ہیں؛ مد ہوش شجر نیلگو رُود کے؛ گل پوش کنارے ہیں وہی وہیں تمہاری انا کا سفر تمام ہوا حیات و موت؛ وہیں بن گئے بہم اعجاز وہ ناؤ خدا بنتا ہے خود، جس کا کھویا پاگل ہے؛ کہ ڈھونڈے وہ کناروں کے سہارے وہ آخری ایام؛ وہ بہتے ہوئے خاموش حرفوں کے بدن اشکوں کے دھاروں کے سہارے وہ ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہنا دَمِ رخصت میں نے نہیں جینا نگہداروں کے سہارے ۱۴۷ وہ جن کو نہ راس آئے طبیبوں کے دلاسے شاید کہ بہل جائیں؛ نگاروں کے سہارے وڈیاں سوچاں ، نیک عمل ؛ تے عالی شان ارادے گل وچ پائی پھر دا؛ سادے، ماڑے موٹے ٹلے وہ سبزہ زاروں میں ہو سب سے سبز کر ، پھر بھی رگیدا جائے اگرچہ وہ پائمال نہ ہو ۱۴۸ ۱۴۹ ۱۵۰ ۱۵۱ ۱۵۲ ۱۵۳ ۱۵۵ وہ پھول ہو کے بھی ؛ آنکھوں میں خارسا کھٹکے تو ایسا زخم لگاؤ کہ اندِ مال نہ ہو وہ لاکھ علم و عمل کا ہو؛ ایک اوجِ کمال فقط وہ غازی گفتار و قیل و قال نہ ہو ویسے تو ہو آدم ہی کی اولاد ملاریب وہ مولیٰ سے ملواتا ہے جب نام اس کا میں لیتا ہوں شمر پر ہے عمامہ بڑا؛ جیسے میں بڑی جیب اک بحر نور کی موجوں پر اک نور کی کشتی کھیتا ہوں اے جنگ والو اسُن لو! مرے مُرشد کا نام محمد ہے ۱۵۴ وہ سمندر کے کنارے ہمیں لے جاتا تھا دیر تک وہ لب ساحل ہمیں ٹہلاتا تھا وہ کئے رکھتا تھا پہلے سے ہی سب کچھ تیار کئی کھانوں کی لگا رکھتا تھا میزوں پہ قطار ۱۵۲ وہ روز آتا ہے گھر پر ہمارے ٹی وی پر تو ہم بھی اب اسے انگلینڈ چپل کے دیکھتے ہیں وہ جس کی بچے بھی کرتے ہیں پیشوائی روز وہ اُس کو شوق سے سنتے ہیں؛ بلکہ دیکھتے ہیں ۱۵۷ ۱۵۸ وہ سراپا جمال سر تا پا صنعت کا معجزہ سا تھا