بیت بازی

by Other Authors

Page 289 of 871

بیت بازی — Page 289

289 اک عشق نارسا سا تھا وہی میں تھا؛ وہی طلب دل کی وہی وائے پیری کی پشیمانی جوانی کے جنون خود سے میں شرمندہ تھا؟ مجھ سے مِرا آئینہ تھا وہی جلسے، وہی رونق وہی بزم آرائی ایک تم ہی نہیں؛ مہمان تو سارے، ہیں وہی وہ پاک محمد ہے؛ ہم سب کا حبیب آقا انوار رسالت ہیں؛ جس کی چمن آرائی کلام محمود که وہ نصیبا ہے ترا؛ اے میرے پیارے عیسی فخر سمجھیں تری تقلید کو ؛ ابن مریم وہ دل جو بغض و کینہ سے تھے کور ہو رہے دیں کا کمال اُن کو بھی اُس نے دیکھا دیا ویسی ہی سلطنت تمھیں اللہ نے وہ وہ وہ ہے دی تا اپنی قسمتوں کا نہ تم کو رہے گله وہ جا جہاں پہ ہوتی تھی ہر روز کوٹ مار ہر طرح اس جگہ پر اب امن و امان ہے دل نہیں؛ جو جُدائی میں بے قرار نہیں نہیں وہ آنکھ؛ جو فرقت میں اشکبار نہیں 6 ہمارا ؛ ہم کہ فکر میں دیں کے ہمیں قرار نہیں وہ تم کہ دینِ محمدؐ سے کچھ بھی پیار نہیں لوگ دَرگہِ عالی میں جن کو بار نہیں اُنھیں فریب و دغا مکر سے بھی عار نہیں وہ ہم کہ عشق میں پاتے ہیں لطف یکتائی دوست نہیں کوئی غمگسار نہیں وہاں ہم جا نہیں سکتے ؛ یہاں وہ آ نہیں سکتے ہمارے درد کا کوئی بھی درماں ہو نہیں سکتا وہ ہیں فردوس میں شاداں؛ گرفتار بکا ہوں میں وہ غمگیں ہو نہیں سکتے ، میں خنداں ہو نہیں سکتا وہ خواب ہی میں گر نظر آتے؛ تو خوب تھا مرتے ہوئے کو آکے چلاتے؛ تو خُوب تھا وہ جوش اور خروش کہاں اب چلے گئے رہتا ہے اس قدر یہ بھلا کیوں دبا ہوا وہ مزا ہے غم دلبر میں؛ کہ میں کہتا ہوں رنج فُرقت کوئی دن اور اُٹھا لوں تو کہوں وہ خفا ہیں کہ بلا پوچھے چلا آیا کیوں یہ ہے فکر ؛ کوئی بات بنا لوں تو کہوں یاں یہ وہ کہیں ہم کہ گداگر کو سلیماں کر دیں وہ کریں کام کہ شیطاں کو مسلماں کردیں وہ کریں دم؛ کہ مسیحا کو بھی حیرت ہو جائے شیر قالیں کو بھی ہم شیر نیتاں کردیں وہ لطف ہے خلش میں؛ کہ آرام میں نہیں تیر نگاہ کیوں میرے سینہ کے پار ہو ۱۵۹ ۱۶۰ ۱۶۱ ۱۶۲ ۱۶۳ ۱۶۴ ۱۶۵ ۱۶۶ ۱۶۷ ۱۶۸ ۱۶۹ ۱۷۰ 121 ۱۷۲ 127 ۱۷۴ ۱۷۵ ۱۷۶ 122 IZA ۱۷۹