بیت بازی — Page 287
287 ۱۲۱ ۱۲۲ ۱۲۳ وہ رحمت عالم آتا ہے؛ تیرا حامی ہو جاتا ہے تُو بھی انساں کہلاتی ہے ،سب حق تیرے دلواتا ہے؟ ان فلموں چھڑواتا ہے وہ مسیحا؛ جس کو سنتے تھے فلک پر ہے مقیم لطف ہے اس خاک سے تو نے نمایاں کر دیا والی بنو امصار علوم دو جہاں کے اے یوسف کنعان؛ خدا حافظ و ناصر ۱۲۴ وصل کے عادی سے گھڑیاں ہجر کی کٹتی نہیں بار فرقت آپ کا کیونکر اُٹھائے قادیاں ۱۲۶ ۱۲۷ ۱۲۸ کلام طاهر ۱۳۵ وہ ماہ تمام اُس کا ؛ مہدی تھا غلام اُس کا روتے ہوئے کرتا تھا؛ وہ ذکر مدام اُس کا وہ جس کی رحمت کے سائے یکساں ہر عالم پر چھائے وہ جس کو اللہ نے خود اپنی رحمت کی ردا دی؛ آیا ہر وہ احسان کا افسوں پھونکا؛ موہ لیا دل اپنے عدو کا کب دیکھا تھا پہلے کسی نے حسن کا پیکر اس خو بو کا وا در گریه کشادیده و دل کب آزاد رکس مزے میں ہیں ترے خاک نشیں؛ آج کی رات وہم و گماں سے بالا؛ عالی مقام احمد ہم ہیں غلام خاک پائے غلام احمد وقت مسیحا؛ نہ کسی اور کا وقت وقت کون ہیں یہ تیری تحریر مٹانے والے وہ جوان برق پا ہے؛ وہ جمیل و دلربا ہے مرا نالہ اس کے قدموں کے غبار تک تو پہنچے وہی رونا ہے ہجر یار میں بس فرق ہے اتنا کبھی چھپ چھپ کے آتا تھا؛ اب آزادانہ آتا ہے ۱۲۹ ۱۳۰ ۱۳۱ ۱۳۲ ۱۳۳ ۱۳۴ ۱۳۶ ہے وہ جن سے لڈ ہ پیر ہوئے؛ جو اپنے وطن میں غیر ہوئے وہ روشن ان تختہ مشق ستم مجبوروں؛ محروموں کی باتیں کر جن کی جبینوں کے انوار سے؛ اے دلیس سے آنے والے ہیں زندان وطن بتا ! کس حال میں ہیں یاران وطن ۱۳۵ وہ نفرت کا طوفان اُٹھا؛ ہر شہر سے امن و امان اُٹھا جلب زرکا شیطان اُٹھا؛ مفلس کے سہارے ڈوب گئے وہ والی تھا مسکینوں کا؛ بیواؤں اور یتیموں کا یہ ماؤں، بہنوں کے سر کی چادر کو جلانے والے ہیں جود سخا کا شہزادہ تھا؛ بھوکوں کے ہاتھوں کی روٹی؛ ۱۳۷ وہ بھوک و مٹانے آیا تھا چھین کے کھانے والے ہیں