بیت بازی — Page 243
243 ۵۳ ۵۴ ۵۶ ۵۷ مگر عاشق کو ھرگز بد نہ کہیو! وہاں بدظنیوں سے بچ کے رہیو! مگر مشکل یہی ہے درمیاں میں کہ گل بے خار گم ہیں بوستاں میں مستقل رہنا ہے لازم؛ اے بشر! تجھ کو سدا رنج و غم، پاس و آلم؛ فکر و بلا کے سامنے کٹ گیا سر اپنی ہی تلوار سے مر گیا بد بخت؛ اپنے وار مُردہ سے کب اُمید ؛ کہ وہ زندہ کر سکے اُس سے تو خود محال؛ کہ رہ بھی گزر سکے ۵۸ مجھے سچ بتا کھول کر اپنا حال کہ کیوں غم میں رہتا ہے اے میرے لال؟ ۵۹ ۶۰ ۶۱ ۶۲ میں عاجز ہوں؛ کچھ بھی نہیں، خاک ہوں مگر میں قرباں ہوں دل سے تیری راہ کا نشاں مگر ۶۳ مجھے بخش؛ ۶۴ بنده دے درگیر پاک ہوں مجھے مرد آگاہ کا ہے مرد عارف؛ فلاں مرد ہے وہ اسلام کے راہ میں فرد ملا تب خدا سے اُسے ایک پیر که چشتی طریقہ میں تھا دستگیر اے خالق العالمین تو سبوح وَإِنِّي مِنَ ا ظلمين میں تیرا ہوں؛ اے میرے کرتار پاک نہیں تیری راہوں میں خوف ہلاک ۲۵ مگر یہ بھی ممکن ہے؛ اے پختہ کار کہ خود غیب سے ہو؛ یہ سب کاروبار راضی ہو؟ وہ دلستاں کہ اُس بن نہیں؛ دل کو تاب و تواں ایسا نہیں کہ عاشق سے رکھتا ہو یہ بغض و کیں کو اس سے انکار ہے اسی سے تو خیر و بے کار ہے نہ جی کو تھا چین؛ اور نہ دِل کو قرار تو پھرتا تھا دیوانہ وار محبت کی تھی سینہ میں اک خلش لئے پھرتی تھی اُس کو دل کی تپش ۶۶ مگر اس سے ۶۷ مگر کوئی معشوق وید ۶۸ مگر مگر وہ ۶۹ 2۔اے ۷۲ ۷۳ ۷۴ ہے دیا عشق کا کاروبار مگر کون پوچھے، بجز عشق باز مگر وہ تو اک دم نہ کرتا قرار ادا کر مجھے پوچھو! اور میرے دل یہ راز ނ میں چولے کا کرتا ہوں پھر کچھ بیاں که ہے یہ پیارا مجھے جیسے جاں مگر جس کے دل میں محبت نہیں اُسے ایسی باتوں سے رغبت نہیں